
واشنگٹن(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی )امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستان میں پولنگ کے دن موبائل فونز اور انٹرنیٹ
کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جمہوری عمل کے جاری رہنے اور آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کی فراہمی کے خواہش مند ہےں، پاکستان کی مستقبل کی قیادت کا فیصلہ وہاں کے عوام کو کرنا ہے۔
سرکاری نتائج کے اعلان تک مزید تبصرہ یا قیاس آرائی نہیں کروں گا کہ کس کی حکومت بن سکتی ہے،ہفتہ وارپریس بریفنگ کے دوران امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل سے صحافیوں نے پاکستان میں عام انتخابات اور اس کے نتائج سے متعلق متعدد سوالات کیے۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ اب تک کے ابتدائی نتائج عمران خان کی پارٹی کے حق میں ہیں، وہ میرے خیال میں اس وقت 136 اضلاع میں آگے ہے، لیکن آپ ووٹ کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بہت ساری رپورٹس اور ویڈیوز بھی دیکھ رہے ہوں گے خدشہ ہے کہ 136 اضلاع میں اس کامیابی کو صبح تک کم نہ کردیا جائےجس پر امریکی ترجمان نے کہا کہ ابتدائی نتائج کی بات یہ ہے کہ وہ ابھی ابتدائی ہیں اور ہمیں ابھی اس سے آگے نہیں جانا چاہیے، جب تک سرکاری اعلان نہ ہوجائے اس لیے میں مزید تبصرہ یا قیاس آرائی نہیں کروں گا کہ کس کی حکومت بن سکتی ہے۔
صحافی نے پھر سوال کیا کہ مان لیتے ہیں کہ پاکستانی عوام پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد امیدواروں کی اکثریت کو منتخب کرتے ہیں، لیکن پھر بیک ڈور مذاکرات سے اچانک وزیراعظم کیلئے ایک اور امیدوار سامنے آتا ہے جس کے پاس اکثریت ہے تو کیا یہ امریکا کے لیے ٹھیک رہے گا۔
امریکی ترجمان نے کہا کہ میں اس معاملے پر قیاس آرائیاں نہیں کرنا چاہوں گا جو ابھی آپ کر رہے ہیں جب ایسی صورت حال پیدا ہوگی تب ہی کچھ کہا جا سکتا ہے،ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان میں انتخابات ہوچکے ہیں ایسے میں کیا امریکا کے پاس لوگوںکیلئے کوئی پیغام ہے؟ فورا ہی صحافی نے معذرت کرتے ہوئے اپنا سوال دوبارہ دہرایا کہ کیا پاکستان میں متنازع انتخابات کے بعد امریکا کا پاکستان میں لوگوں کو کوئی پیغام ہے؟ جس پر امریکی ترجمان نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی ووٹ ڈالنے گئے اور میں پھر اپنی بات دہراوں گا کہ پاکستان کی مستقبل کی قیادت کا فیصلہ وہاں کے عوام کو کرنا ہے۔
ہماری دلچسپی جمہوری عمل کے جاری رہنے میں ہے۔ امریکی ترجمان نے انتخابات سے متعلق پرتشدد واقعات کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزیوں کے معاملات پر نگاہ ہے۔
ایک اور صحافی نے پاکستان میں بننے والی اگلی حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھا جس پر امریکی ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان کی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات اور شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔




































