
لندن (ویب ڈیسک )ملکہ برطانیہ نے وزیر اعظم بورس جانسن کی درخواست پر 5 ہفتوں کیلئے برطانوی پارلیمنٹ کو
معطل کرنے کی منظوری دے دی۔
برطانوی وزیراعظم نے ملکہ برطانیہ سے 11 ستمبر سے شروع ہونےوالے برطانوی پارلیمنٹ کے سیشن کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ ملکہ الزبتھ دوئم پارلیمان سے اپنا خطاب 14 اکتوبر تک مؤخر کردیں۔برطانیہ کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بورس جانسن پارلیمانی منظوری کے بغیر یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں لیکن بورس جانسن کا کہنا ہے کہ 14 اکتوبر کے بعد بھی ارکان پارلیمان کے پاس نو ڈیل بریگزٹ پر بحث کیلئے کافی وقت ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بورس جانسن نے پارلیمنٹ کو معطل کرنے کی درخواست اس لئے کی تاکہ ارکان پارلیمنٹ نو ڈیل بریگزٹ کو روکنے کیلئے کوئی قانون سازی نہ کرلیں۔خیال رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کو پارلیمانی سیشن کی معطلی سے روکنے کیلئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں نے پٹیشن پر دستخط کردیئے ہیں اور ارکان پارلیمان کے ایک گروپ نے سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی سول عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔





































