
کراچی (رنگ نو اسپیشل ) ایک سال پہلے متنازع گلوکارہ میشا شفیع اپنے دوست اور ساتھی فنکارعلی ظفر پرایک
سنگین الزام لگایا تھا۔ میشا کاکہنا تھا کہ علی نے ایک جیمنگ سیشن کے دوران مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔
بس پھر کیا تھا، شوبز کے حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے عقابوں کو ایک نیا شوشا ہاتھ میں آگیا۔ اخبارات و جرائد اور نیوز چینلز کو جہاں چسکے دار چٹ پٹی شہ سرخیاں لگانے کو مل رہی تھیں،وہیں حقوق نسواں کا منجن بیچنے والی شخصیات اور این جی اوز کو بھی اپنا ڈھول خوب پیٹنے کا موقع ملا تھا۔ پھر
یوں ہوا کہ فریقین یہ معاملہ لے کر عدالت میں جاپہنچے۔اس کے بعد رفتہ رفتہ ہمارے ملک کے ہرمعاملے اور ایشو کی طرح اس معاملے پر دھول بیٹھنا شروع ہوگئی۔عوام کے ذہنوں سے بھی میشا اور علی ظفر کا تنازع محو ہونے لگا اور میڈیا نے بھی پرانا چھوڑ کر نیا منجن بیچنے کی اپنی روایتی روش اختیارکرلی تھی۔

تاہم ایک بار پھر یہ پرانا بھوت زندہ ہوکرمیڈیا کے پردے پر واپس آگیا ہے۔ علی ظفر نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میشا شفیع کے لتے لئے،انہیں للکارا،جھوٹی قراردیا۔پھر میشا بھلا کیوں پیچھے رہتیں۔ وہ بھی اپنے دفاع کیلئے سامنے آئیں اورعلی ظفر کے حوالے سے باتیں کرکے چٹورے میڈیا کیلئے مرچ مسالے دار چٹ پٹی خبروں کا سالن تیار کرڈالا۔
بظاہرلگ یہ رہا ہے کہ میشا اور علی ظفر کی ’ہراسمنٹ اسٹوری‘ کی ٹرین پھر سے رفتار پکڑنے لگی ہےاوراس کے سفر میں نئے اور دلچسپ موڑ آنے والے ہیں۔
اب علی ظفر کی اہلیہ عائشہ علی بھی آستین چڑھا کر ٹوئٹر پر اپنے شوہر کے دفاع میں سامنے آگئی ہیں۔
عائشہ نے ٹویٹر پر FaceTheCourtMeeshaShafi# کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر میشا شفیع کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے میشا کی جانب سے اپنے شوہر پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ علی ظفر نے اگر میشا کو معاف کر بھی دیا تو میں ایسا نہیں کر پاؤں گی۔
علی ظفر کی اہلیہ نے مزید لکھا کہ ‘‘میں نے، میرے شوہر نے اور میری فیملی نے جو کچھ برداشت کیا اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، انٹرنیٹ پر مذاق اڑانا اور قریبی دوستوں کا دھوکا دینا، ان سب سے آنکھیں کھل گئی ہیں‘‘۔




































