
لاہور(شوبز ڈیسک )اداکاروگلوکار محسن حیدر عباس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایک ایسے گھرانے سے تعلق
رکھتا جہاں خواتین کی عزت جگہ جگہ نہیں اچھالی جاتی۔میری بیوی نے لکھا ظلم سہنا گناہ ہے تو ظلم کے خلاف چپ رہنا بھی گناہ ہے۔چار سال پہلے شادی ہوئی تو ایسے لگا یہ شادی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
یہ شادی غلط تھی اس کا احساس چند مہینوں میں ہوگیا تھا۔ بیگمات یا شوہر جھوٹ بولیں تو وہ رشتہ نہیں چل سکتا۔میں سید گھرانے سے تعلق رکھتا قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹ بولوں گا تو اس کے بارے میں جانتا ہوں۔اب اس کے جتنے بھی جھوٹ ہیں اس کی فیملی گواہ ہے۔جب بھی وہ مجھ سے جھگڑا کرتی خود والدین کے گھر چلی جاتی تھی اور آدھی کہانی سنایا کرتی تھی۔اسے باتیں چھپانے اور غلط بیانی کی عادت تھی۔میری تربیت کا حصہ نہیں کہ میں نے کبھی پرسنل لائف کو شیئر نہیں کیا۔جب میری بیٹی پیدا ہونے والی تھی ان کی بہن اور کزن کی طرف سے میسج آئے کہ یہ بچی تمہاری نہیں
انہوں نے کہا اس کے گھر والوں نے کہا اس کے لڑکوں کے ساتھ چکر تھے اور مجھے لڑکوں کی تصویریں بھیجیں۔چار سال کی شادی میں ہم مشکل سے ایک سال ساتھ رہ سکے ہیں۔جب اس کے آپریشن کو پانچ چھ ماہ گزر چکے اور ایک دن میرے گھر کی گھنٹی بجی تو کیب کے ڈرائیور کو میرے گھر کے اندر دروازہ پھلانگ کر داخل کروایااور اس ڈرائیور نے میرے خلاف آوازیں لگانی شروع کردیں۔
محسن حیدر عباس نےکہا ایک دن اس کی والدہ نے میرے گھر آکر مجھے ایسی گالیاں دیں جو میں نے کبھی نہ سنی۔میں ہمیشہ مختلف چینلز کے ساتھ کنٹریکٹ پر جاب کرتا رہا کبھی کاروبار نہیں کی۔اانہوں نے جو تصاویرسوشل میڈیا پر شیئر کی وہ سیڑھیوں سے گری تھی۔وہ نشانات اب کہاں ہیں اگر میں نے مارا تو کوئی نشان ہوگا بلکہ آپ پولیس کے پاس جائیں اگر آپ سچی ہیں شادی سے پہلے میں نے ایک بیچلر لائف گزاری لیکن شادی کے بعد بھی میں اکیلا تھامیں نے سوچا اب بچہ ہوگیا تو میں نے طلاق والے معاملے کنارہ کشی کرنی چاہی میں دوسری شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس پر بھی فاطمہ آمادہ نہیں تھی اور بھڑکتی رہی۔
میری بیوی کی جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کی وجہ سے اکثر لوگ میرے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیتے۔ہر روتی ہوئی عورت سچی نہیں ہوسکتی۔
نازش جہانگیر کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کا الزام لگایا گیا کسی لڑکی کی عزت پر کیچڑ اچھالا جارہاہے عزتیں اچھالنے کا رواج میں نے نہیں سیکھا ہمارے جھگڑے ہمیشہ گھر تک رہتے تھے




































