
کراچی (رنگ نو ڈاٹ کام ) پہلا 2روزہ لیاری لٹریچر فیسٹیول اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ اختتام پذیرہوگیا، فیسٹیول
میں 10 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات سمیت دیگرلوگوں نے شر کت کی،فیسٹیول کے شر کا نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آ ئندہ برس لیاری لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد کے لیے مالی مد د فر اہم کرے۔
بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں شروع ہونے والا دو روزہ پہلا لیاری لٹریچر فیسٹیول اختتام ہوگیا۔ فیسٹیول کے دونوں روز10 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات سمیت دیگرلوگوں نے شر کت کی۔
فیسٹیول کے دوسرے روزمعاشرہ و موسیقی سمیت 14 سیشن ہوئے۔اس موقع پر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے سی ای او مہر در آرٹ اینڈپروڈ یکشن فہیم شاد نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری ایک سر کاری یونیورسٹی ہے لہٰذ ااس قسم کے فیسٹیول کرانے کی ذ مے داری بھی حکومت کی ہے ۔ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ آ ئندہ برس لیاری لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد کے لیے ہماری مالی مد د کی جائے۔

مختلف سیشن سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیاری کو گزشتہ 10 برس سے نظر انداز کیا گیا، جان بوجھ کر لیاری کے ساتھ سوتھلی ماں جیسا سلوک کیا گیا مگر یہاں کے لوگوں نے ثابت کیا کہ ان کا جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہاں کے عوام نے لیاری میں امن کے قیام کے لیے بہت جدوجہد کی جس کو جتنا سرایہا جائے کم ہے۔
قبل ازیں سعدیہ بلوچ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس پروگرام کو بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نے بھرپور تعاون کر کے یقینی بنانے میں جو ساتھ دیا وہ اہم ہے،ہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہیں جنہوں نے اس میں خاص دلچسپی لی اوربھرپورتعاون کیا، اس میلے کے ذریعے لیاری کا ایک اور سفر شروع ہوگا۔
سعدیہ بلوچ نے لیاری لٹریچر فیسٹیول کے کلیدی اغراض پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب اورفنون کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی کا فروغ، کراچی خاص کر لیاری کااصل ادبی و فن دوست رخ پیش کرنا اور جامعات و تعلیمی اداروں میں پر امن ماحول کوتقویت دینا ہمارے مقاصد میں شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امن، محفوظ جامعات اور سماجی ہم آہنگی بہ ذریعہ ادب، فن اور ثقافت لیاری لٹریچر فیسٹیول2019ء کا موضوع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جامع نے اپنے بھر پور تعاون سے اپنے کردار کو پیش کیا ہے جس کے لیے ہم شکر گزار ہیں، رضا کاروں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف چہر بھر سے بلکہ خود جامع سے، اس کو کامیاب بنانے میں اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔
سعدیہ بلوچ نے فیسٹیول کے شر کا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کی ان چیزوں میں دلچسپی نہ بھی ہو تو بھی کوئی بات نہیں، آیے ہمارا ساتھ دیں، بہ طور قوم ہم نے خوش ہونا چھوڑ دیا ہے،سو آیے مل کے خوش ہوں۔ پروگرام کوآر ڈی نیٹرپروین نازز کا کہنا تھا یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے مگر آخری نہیں، اس کا تسلسل، یونیورسٹی کا تعاون، لیاری سمیت پورے شہر بلکہ سندھ کے دوسرے اضلاع اور بلو چستان سمیت ملک کے لوگوں کی شمولیت اس کی کامیابی کا فیصلہ کرے گی۔




































