
اسلام آباد (فن وفنکارڈیسک) اداکارہ عائشہ عمر نے کہاکہ ان کی زندگی کے مشکل ترین وقت نے انہیں خود مختار بنادیا۔ انہوں نے کہاکہ
والد کے انتقال کے بعد ان کی فیملی ماں اور بھائی نے مشکل ترین وقت دیکھا اور ان کی والدہ اس وقت اتنے صدمے میں تھیں کہ اپنے حق کے لئے آواز بھی نہ اٹھا سکیں اور انہوں نے اس وقت لاہور کے ایک مہنگے ا سکول ”ایل جی ایس“ میں پڑھانا شروع کردیا،جہاں ان دونوں بہن بھائیوں کوا سکالر شپ کی بنیاد پر داخلہ مل گیا، یہ ان کی خوش قسمتی تھی کیونکہ وہ لوگ اس وقت کسی بھی مہنگے اسکول میں پڑھنے کے قابل نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے ان کی بنیا دی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے قسطوں میں ایک وین بھی لی جس میں وہ اسی ا سکول کے بچوں کا پک اینڈ ڈراپ دیتی تھیں اور شام میں بچوں کو پڑھاتی بھی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے والدہ کو دیکھ کر یہ سیکھا کہ ہمیں خود اپنے لئے کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں پچھلے سال بہت سے ایوارڈ ملے جس میں انہیں“مور سٹائلش فیگر“ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور انہیں وہ وقت بھی یاد ہے جب ان کے پاس پہننے کو مہنگے کپٹرے بھی نہیں ہوتے تھے،وہ اپنی کزنز کے کپٹرے پہننا کرتیں تھیں جبکہ ان کی دوستوں کے کپڑے مہنگے ہوتے تھے اورآج جب ان کے پاس سب کچھ ہے تو انہیں یہ سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔




































