
کراچی(رپورٹ : مرزا افتخار بیگ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ہونے والا کشمیری ادیب بشیر سدوزئی کا لکھا ہوا عوامی تھیٹر ”دختر
کشمیر“ نے کراچی کے عوامی تھیٹرز میں نہ صرف جگہ بنا لی بلکہ پہلے ہی پروگرام میں سپر ہٹ ہو گیا۔ آرٹس کونسل کا اوپن ایئرتھیٹر سامعین سے بھرا ہوا تھا اور ڈیڑھ گھنٹہ طویل دورانیہ کے دوران مجمع پر سکتہ طاری رہا۔ کنن پوش پورہ کی متاثرہ خواتین کی یاد میں لکھے گئے عوامی تھیٹر نے مختصر وقت اور پہلے ہی شو میں مقبولیت حاصل کر لی، مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی کثیر تعداد نے پہلی مرتبہ کسی کشمیری پروگرام میں ملی جذبہ اور دلچسپی سے شرکت کی۔ بعض خواتین نے کہا کہ ہم سری نگر سے ہیں اور اپنے شہر کی صورت حال دیکھنے آئے ہیں۔ شو کے اختتام پر لوگوں نے بشیر سدوزئی کو گلے لگایا اور کہا کہ آپ واقعی کشمیر کی آواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ” دختر کشمیر“ بھارت کو ہندی فلم دی کشمیر فائلز پروپیگنڈے کا بہترین جواب ہے۔ معروف اداکار ،ایان خان کمانڈر اکرم ڈار تھیٹر کا ہیرو اور اداکارہ شانزے وردہ پنڈت لڑکی مایا کماری کے کردار کے ساتھ ہیرون تھی، پورا تھیٹر ان دونوں کے گرد گھومتا رہا بلآخر اداکار شمیر راہی کرنل وشے کمار کے کردار میں کمانڈر اکرم ڈار تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اسے ہلاک کرنے کے لیے گولی چلاتا ہے لیکن پنڈت مایا کماری اکرم ڈار کو بچاکر خود ہلاک ہوجاتی ہے اور آخری الفاظ ادا کرتی ہے ”بالے میں نے کہا تھا کہ تیری خاطر جان دے دوں گی، میں پنڈت ہوں مگر کشمیری بھی ہوں۔ کرنل وشے کمار پنڈتوں کے ایک ایک خاندان کو دس دس کروڑ نقد اور بھارت میں زمین دے کر منتقل کرنے چاہتا ہے لیکن ہم پنڈت کشمیر چھوڑ کر بھارت نہیں جانا چاہتے۔ بھارت ایک ریاست ہے تو کشمیر اس سے پرانی ریاست ہے ہم بھارت میں کیوں ضم ہوں۔ کرنل دوسرے فائر میں اکرم ڈار کو شہید کرتا ہے اس سے پہلے اکرم ڈار جذباتی ڈئیلاک بولتا ہے، کرنل میں تجھے گرفتاری دینے سے زیادہ کشمیر پر مرنے کو ترجیح دوں گا تاکہ میرا خون میرے وطن کی مٹی پر گرے اور جذب ہو جائے۔ میرا جسم تہاڑ جیل کے بجائے میرے وطن کی مٹی میں دفن ہو۔ میں تم سے زندگی کی بھیک نہیں مانگتا، چلا گولی تم بزدل ہو تمہیں کشمیر کی دختر چاہیے وہ مسلمان ہو یا پنڈت تمہارے کوئی جنگی اصول نہیں۔ کرنل وشے کمار کہتا ہے کہ سارے آتنگ بادیوں کو ختم کر دیا ہے کشمیری آزادی کا سبق بھول جائےں گے۔
کمانڈر اکرم ڈار کہتا ہے کہ کرنل، جس کو تم فتح سمجھتا ہے یہ وقفہ اور جنگ میں عارضی ٹھہراﺅ ہے اور جنگوں میں وقفہ آتا رہتا ہے، جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے تمہارے ساتھ جنگ جاری رہے گی اور تمہیں کشمیر سے جانا ہو گا یہ مدراسی اور سکھ فوجی کشمیر پر حکومت نہیں کر سکتے۔ کرنل دوسرے فائر میں اکرم ڈار کو شہید کرتا ہے۔ معروف کشمیری تاجر عاطف قیوم دونوں میتوں پر آزاد کشمیر کا جھنڈا ڈالتا ہے، اسی کے ساتھ کشمیر کا نغمہ چلتا ہے ”میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن“۔
اداکارہ سپنا غزل جو تھیٹر میں کنن پوش پورہ کی متاثرہ خاتون پگلی کے روپ میں بار بار سامنے آتی رہی، کمال کی اداکاری اور چبھتے جملوں سے ہزاروں افراد کو سوگوار کر دیا۔ میرے، بچے، میرے بھائی کی صدا کے ساتھ پگلی کی چیخوں نے سامعین کے آنسو نکال دیے اور ہال میں سسکیوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ آڈیٹوریم میں موجود کئی خواتین و حضرات رو پڑے ایک موقع پر پگلی نے بے ساختہ آزاد کشمیر کے عوام کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ، ہمارا تو سب کچھ لٹ چکا مگر اس پار سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیا ہم سے ناراض ہیں۔ پھر اپنی بات کو گھمایا کہ خاموش رہو، پیر پنجال ناراض ہے، اس کی چوٹیوں پر بھارتی فوجی شراب پی کر قہقہے لگاتے ہیں، کوئی انہیں وہاں سے نہیں ہٹاتا۔ خاموش رہو بانیال خفا ہے اس کی چوٹیوں پر کشمیریوں کے چیخنے کی آوازیں آتی ہیں کوئی ان کو بچانے نہیں آتا۔ جہلم خاموش ہے اس کے سینے سے ہاﺅس بوٹ غائب ہے اور شکاروں کی ریل پہل نہیں، کشمیر اداس ہے، لوگوں کشمیر اداس ہے۔
ایک سین میں جب پگلی چیختی ہے کہ کشمیر میں دختر کشمیر کو ننگے سر کر دیا گیا کوئی چادر ڈالنے نہیں آتا تو مجاہدین اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں، پگلی کے سر پر اپنے کندھے کا رومال ڈالتے ہیں، کمانڈر اکرم ڈار عہد کرتا ہے کہ جب تک کنن پوش پورہ کی ایک ایک بہن کا بدلا نہیں لیتے آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس موقع پر ماحول جذباتی ہو جاتا ہے اور مجاہدین نعرے بلند کرتے ہیں، کشمیر ہمارا ہے سارے کا سارا ہے، اس کی خاطر ہم لڑیں گے، اس کی حفاظت اور اس پر حکومت ہم کریں گے۔
معروف ڈائریکٹر آدم راٹھور نے کمانڈر اکرم ڈار کے والد عبداللہ، نوجوان زید خان نے عبداللہ کا داماد اور مجاہد اسلم کا کردار۔ اداکارہ مہک نور نے کمانڈر کی بہن رضیہ کا کردار ادا کیا۔ فوج جب رضیہ کو گرفتار کرنے آتی ہے تو وہ چیخ کر کہتی ہے ” تم دختر کشمیر کو پریشان کرتے رہو کشمیر تمہیں نہیں مل سکتا، مودی کے ہاتھ میں نہیں ہے وہ لکیر جس سے وہ حاصل کرے کشمیر۔ “ سینئر اداکار الیاس ندیم نے پنڈت جگت ناتھ کا کردا ر،اعجاز خان نے مولوی نذیر احمد ذوالفقار عاطف بھارتی فوج کے میجر، حسین راٹھور اور ارباز خان نے انڈین آرمی سپائی، عدیل جدون۔ ہنی خان، گل شیر بلوچ، جاوید علی نے کمانڈر کے ساتھیوں کا کردار ادا کیا۔ خان محمد صادق، ہنی خان اور عبدالصمد راٹھور معاون ہدایت کار تھے، کراچی میں مقیم کشمیری نامور شخصیات سردار مقصود الزماں، سردار نزاکت، عاطف قیوم، سردار ظفر سردار محمد عزیز ایڈووکیٹ، عامر رضا ایڈووکیٹ، جمشید حسین، خواجہ عبداللہ ایڈووکیٹ، معروف صحافی سردار لیاقت کشمیری، محمد اظہر عبدالحفیظ بٹ، محمد شاہین سدھن گلی، محمد جمیل خان فاضل خان اور دیگر نے شرکت کی۔




































