
کراچی(رنگ نو اسپورٹس) پاکستان کے سابق قومی کرکٹ کپتان،اپنی دھواں دھار بیٹنگ اورتباہ کن بولنگ سے حریف ٹیموں پر دھاک بٹھانے
والے مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی المعروف ’’ بوم بوم آفریدی‘‘ نے حال ہی میں اپنی سوانح عمری شائع کی ہے۔’ گیم چینجر‘ کے عنوان سے اس کتاب میں جہاں آفریدی نے بہت سی متنازع باتیں کی ہیں،وہیں ان کی یہ کتاب متعدد سنگین غلطیوں سے بھی بھرپور ہے۔ ماہرین حیران ہیں کہ اس کتاب میں حقائق کی غیرمعمولی غلطیاں کیسے رہ گئیں جس سے نہ صرف اس کتاب بلکہ خود شاہد آفریدی کی اپنی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شاہد آفریدی کی مذکورہ کتاب میں جو غیرمعمولی غلطیاں موجود ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں۔
شاہد آفریدی کے مطابق ’کپتان وسیم اکرم اور چیف سلیکٹر صلاح الدین ستی کی وجہ سے وہ ٹیم میں شامل ہو سکے۔حقیقت یہ ہے کہ صلاح الدین ستی کبھی پاکستانی ٹیم کے چیف سلیکٹر نہیں رہے وہ ایک اعلیٰ فوجی افسر ہیں جو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فوج سے ریٹائر ہوئے ہیں۔شاہد آفریدی دراصل سابق ٹیسٹ کرکٹر صلاح الدین صلو کا نام لینا چاہ رہے تھے جو اس وقت چیف سلیکٹر تھے۔
جاوید میانداد کا انڈیا کے بولر چیتن شرما کو شارجہ میں لگایا گیا چھکا کسے یاد نہیں۔ اس واقعے کو 30 برس سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ شاٹ اور میچ لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔تاہم شاہد آفریدی کے معاملے میں شاید ایسا نہیں۔
ان کی کتاب میں جہاں اس مشہور چھکے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں کہا گیا ہے کہ یہ میچ 1987 میں کھیلا گیا جبکہ درحقیقت جاوید میانداد نے وہ چھکا 1986 میں لگایا تھا۔
شاہد آفریدی نے ایک جگہ یہ لکھ کر سب کو حیران کردیا ہے کہ 2005 میں پاکستان نے انضمام الحق کی قیادت میں بنگلور ٹیسٹ ڈرا کیا تھا۔حقیقت یہ ہے وہ ٹیسٹ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین میچوں میں سے ایک ہے جو پاکستان جیتا تھا۔اسی سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے طور پر شاہد آفریدی نے دہلی کا نام لیا ہے جبکہ وہ ٹیسٹ موہالی میں کھیلا گیا تھا۔
ایک اور اہم غلطی جو اس کتاب میں موجود ہے وہ شاہد آفریدی کے اولین ون ڈے انٹرنیشنل کے بارے میں ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ وہ 17ویں یا 18ویں اوور میں بولنگ کے لیے آئے اور بہت جلدی وکٹ لینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔تاہم اگر کینیا کے خلاف کھیلے گئے اس میچ کا ریکارڈ دیکھا جائے تو شاہد آفریدی نے اپنے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں دس اوورز کیے لیکن انہیں ایک بھی وکٹ نہیں ملی تھی۔
شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں بھارتی کرکٹر گوتم گمبھیر کے ساتھ میدان میں ہونے والی تلخ کلامی کا ذکر بھی کیا ہے۔تاہم ان کے مطابق یہ تلخ کلامی 2010 کے ایشیا کپ کے دوران ہوئی تھی حالانکہ یہ واقعہ 2007 میں پاکستانی ٹیم کے دورۂ بھارت کے موقع پر پیش آیا تھا۔
شاہد آفریدی نے جب ون ڈے انٹرنیشنل میں 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی تو اس وقت یہ ریکارڈ بک میں ون ڈے میں سب سے کم عمری میں بنائی گئی سنچری کے ریکارڈ کے طور پر درج ہوئی تھی اور آج تک یہ 16 سال 217 دن کی عمر میں بنائی گئی سنچری سب سے کم عمر انٹرنیشنل سنچری مانی جاتی ہے۔لیکن شاہد آفریدی کی کتاب کی وجہ سے ان کا یہ ریکارڈ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔شاہد آفریدی نے اپنی کتاب کی ہارڈ کاپی میں اپنی پیدائش 1975 اور ای کاپی میں 1977 درج کی ہے۔ خود ان کا کہنا ہے کہ وہ 1977 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے جب انھوں نے37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی وہ 21 سال کے تھے۔




































