
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں مندی
سے ہمیشہ پاکستان کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈالرزاورپٹرولیم کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے ہمیں فائدہ ہوگا۔
سینئر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے دعوی کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ایک وزیر جلد وفاقی کابینہ میں واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آخری پروگرام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں بہتری کے گرین سگنلز مل رہے ہیں اور صنعتی شعبے کی بحالی میں مثبت پیشرفت ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں بیرون ملک سے 13 فیصد زیادہ زرمبادلہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بھی 14 فیصد سے 12.4 فیصد پر آ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوئی ہیں۔آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے سال مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2018 میں کہا تھا کہ مستحکم ہونے میں دو سال لگیں گے کیونکہ مہنگائی اور صورتحال کا اندازہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب استحکام کی جانب گامزن ہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے کہا کہ اس سال سی پیک کے تین اسپیشل اکنامک زونز بنائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فروری میں سیمنٹ کی کھپت میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسد عمر نے سینئر صحافیوں کو ملک کی معاشی صورتحال پر بتایا کہ پرائس انڈیکس 20 فیصد کم ہوکر 14.6 پر آگیا ہے جب کہ ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ترسیلات زر پچھلے سال کی نسبت 13 فیصد بڑھی ہیں جب کہ اوورسیز پاکستانیوں نے گزشتہ تین ماہ میں 700 ملین ڈالرز کا زرمبادلہ بھجوایا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ملکی برآمدات میں بھی چار فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ اسی عرصے کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات منفی میں رہی ہیں۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک کی صنعتی پیداوارمیں 9 سے 35 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔




































