
ہانگ کانگ (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دنیا بھر کے ایک سو ممالک سے درآمدات پر محصولات عائد ہونے کے اثرات کے نتیجہ میں
عالمی تجارتی جنگ کے خدشات پر امریکی سٹاک مارکیٹ کے بعد دنیا بھر اور خاص طور سے ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے۔
رائٹرز کے مطابق پیر کو ایشیائی ممالک کی سٹاک مارکیٹس میں دن کے آغاز سے ہی شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ امریکا کی وال سٹریٹ میں شدید مندی کے بعد سرمایہ کاروں نے ملک میں کساد بازاری کے بڑھتے ہوئے خطرات اور مئی کے اوائل میں شرح سود میں کمی کے پیش نظر حصص کی بڑے پیمانےپر فروخت کی، امریکی فیوچرز مارکیٹس میں حصص کے فروخت میں تیزی جس سے ٹریژری کی پیداوار میں تیزی سے کمی آئی اور ڈالر کی قدر متاثر ہوئی ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حکام نے ٹیرف کے نفاذ کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ چین نے امریکی محصولات پر جوابی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ مارکیٹوں کو نقصانات سے بچنے کیلئے خود اقدامات کرنا ہوں گے اور وہ چین کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک کہ امریکی تجارتی خسارے کو دور نہیں کیا جاتا۔سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ سٹاک مارکیٹس میں کھربوں ڈالر کے نقصان اور امریکی معیشت کو ممکنہ طور پر جسمانی دھچکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے منصوبوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دے گا۔





































