
اسلام آباد (ویب ڈیسک )مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوا ن نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی سعودی عرب میں تقریردھواں دار تھی۔
وفاقی کابینہ نےوزیراعظم کواو آئی سی میں تقریرپرداددی۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کےفیصلوں پر میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ ہرپالیسی میں پاکستان کامفادمدنظررکھاجارہاہے۔وزیراعظم کی سرپرستی میں اسلام کااصل چہرہ دنیاکودکھایاجائےگا۔
وزیراعظم او آئی سی میں کشمیراورفلسطین کونہیں بھولے۔اجلاس میں سپریم جوڈیشل کونسل کوبھیجے گئےریفرنس سےکابینہ کو آگاہ کیا گیا۔جن حقائق پرریفرنس بھیجےگئےاس پروفاقی کابینہ کوبریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے عزم کا اعادہ کیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔70سال کےگلےسڑےسسٹم سےپاکستان کونجات دلانےآئےہیں۔عدلیہ کامعاملہ سپریم جوڈیشل کونسل ہی دیکھ رہی ہےتو یہ عدلیہ پرحملہ کیسےہے۔عمران خان عدلیہ کوآزاداورخودمختاربنانےکیلیے اسٹیک ہولڈرزکےساتھ کام کرناچاہتے ہیں۔اپوزیشن مگرمچھ کےآنسو بہارہی تھی،لندن کےصحت افزامقام سےمذمت کی جا رہی تھی۔سپریم جوڈیشل کونسل کوبھیجے گئےریفرنس سےکابینہ کوآگاہ کیاگیا۔وفاقی کابینہ نےلندن سےآنےوالے بیان کی مذمت کی ۔سپریم جوڈیشل کونسل حکومت کاماتحت ادارہ نہیں ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کوریفرنس پرفیصلہ کرنا ہے۔ایسٹس ریکوری یونٹ کوملی شکایت کووزارت قانون کوبھجوایاگیا۔ایسٹس ریکوری یونٹ نےتصدیق کےبعد شکایت وزارت قانون کوبھجوائی۔
وزیراعظم کےمعاون خصوصی شہزاداکبرکوشکایات موصول ہوئیں۔سپریم جوڈیشل کونسل غیرجانبدارفورم ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل عدلیہ سےمتعلق شکایات پرفیصلہ کرنےوالافورم ہے۔تحریک انصاف دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے کے ساتھ حکومت میں آئی ہے ۔




































