
کراچی(رنگ نوڈاٹ کام ) سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ نوازکے رہنما شاہدخاقان عباسی نےکہاہےوفاقی بجٹ حکومت کا نہیں
آئی ایم ایف کادیا ہوا ہے،اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں ،
حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ اے پی سی میں کیا جائے گا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتےکہ ان ہاﺅس تبدیلی ہو یا عوام سڑکوں پر آکر توڑ پھوڑ کریں،حکومت اپنے غیر جمہوری رویئے سے ہمیں اس کیلئے مجبور کررہی ہے،ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا،عوام دشمن بجٹ منظور ہونے نہیں دیا جائے گا
مسلم لیگ ن سندھ کے صدرشاہ محمدشاہ، سابق گورنر سندھ محمد زبیر،سابق وزیر وفاقی وزیر خزانہ اورسندھ کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جو حکومت چار ہزار ارب کے ٹیکس جمع نہیں کرپائی وہ آگے کیا کرے گی،اب جو شخص پچاس ہزار روپے کمارہا ہے اس پر بھی حکومتی ٹیکس لگا دیا گیا ہے پچاس ہزار روپے کمانے والا ٹیکس کیسے ادا کرے گا ۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومتی رویہ غیرجمہوری ہے،نوازشریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں ۔ان سے 8 ماہ سے جیل میں ملاقاتوں کاسلسلہ جاری تھا گزشتہ روز پیغام ملا کہ اب ان ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یہ طریقہ نہ ماضی میں کسی نے اپنا یا نہ آمریت میں ایسا ہوا،نام نہاد جمہوریت میں ایسا کچھ ہورہا ہے ہم اپنا مقدمہ عوام کے پاس لے کر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قرضے لینے کی بات کرتی ہے،ہماری حکومت میں 9ہزار ارب روپے کے قرضے لئےگئےتھے،اب ان قرضوں میں صرف ایک سال میں پانچ ہزار ارب روپےکااضافہ ہواہےحکومت جو قرضے لے رہی ہے ،وہ سود کی ادائیگی کے لئے استعمال کر رہی ہے۔
ایک سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں 32سال سے سیاست میں ہوں ۔میں کہیں نہیں جارہا۔جب نیب والے مجھے بلائیں گے میں حاضرہوجاﺅں گا۔حکومت صرف لوگوں کی بے عزتی کر رہی ہے۔




































