
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب اور نادار طبقات کو چھت کی فراہمی ان
کا خواب ہے، نیا پاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ کے تحت معاشرے کے کمزور بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے اپنی چھت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اسلام آباد کے زون 4 میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کے تحت 18 ہزار 500 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر شہروں کی کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنائے گی، گھروں کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں آسانیاں فراہم کر نے کیلئے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ منصوبے کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 18 ہزار گھر تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر غریب اور نادار طبقات کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جن کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں آج بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کا آغاز ہو رہا ہے، انشاءاﷲ یہ اسکیم پورے پاکستان میں لے کر جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کے منصوبے میں مجموعی طور پر 18 ہزار گھر ڈیڑھ سال کے عرصہ میں تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر اس طبقے کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جو اپنے پیسے اور وسائل سے گھر خرید نہیں سکتے۔ اس طبقے کے لئے گھروں کی قیمت وہی ہوگی جسے غریب آدمی خرید سکے گا۔ 10 ہزار گھروں کے لئے شفاف طریقے سے قرعہ اندازی ہوگی اور جن کا قرعہ نکلے گا انہیں ڈیڑھ سال کے عرصہ میں گھر بنا کر دیئے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور نادارطبقے کے لئے اپنی چھت کی تعمیر کی کوششوں کے تحت شہروں میں بھی کام کیا جا رہا ہے۔ شہروں میں کچی بستیوں میں لوگ رہ رہے ہیں جن کے پاس نہ مالکانہ حقوق ہوتے ہیں اور نہ انہیں بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ کراچی میں 30 سے 40 فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہ رہی ہے۔ حکومت کوشش کرے گی کہ نجی شعبہ کے ساتھ مل کر کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔
عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے دو سیکٹروں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں کچی بستیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اسکیمیں بھارت، ملائیشیا اور ترکی میں بھی کامیابی سے جاری ہیں۔ پاکستان میں پہلے صرف پیسے والے لوگ اپنا گھر بنا سکتے تھے، حکومت کی اسکیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام آدمی بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے آسان شرائط اور چھوٹی چھوٹی قسطوں کے ذریعے چھت فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں عام آدمی کے لئے گھر بنانے کے مواقع ملتے ہیں لیکن پاکستان میں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی۔ بھارت میں بینک 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور برطانیہ و امریکہ میں 80 سے 90 فیصد گھروں کی تعمیر کے لئے بینک قرضے فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بینکوں کی جانب سے گھروں کے لئے قرضہ جات کی فراہمی کی شرح 0.2 فیصد ہے۔ اس میں اضافہ کے لئے حکومت قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔ حکومت بینکوں سے قرضے حاصل کرنے کے لئے آسانیاں فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، انشاءاﷲ ہماری کوششیں کامیاب ہوں گی۔ اس شعبہ میں باہر سے سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے، آنے والے دنوں میں سارے پاکستان میں اس منصوبے کے تحت گھروں کی تعمیر کا آغاز ہوگا۔




































