
مظفر آباد(ویب ڈیسک )وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر واضح کہا ہے کہ ہم تیار ہیں اور اینٹ
کاجواب پتھر سے دیں گے ،نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی کردی جو اسے بہت مہنگی پڑےگی،قومی غیرت ہمیں لآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲْ کی طاقت دیتا ہے، ہم اﷲ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔
۔قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خوشی ہے یوم آزادی کے دن کشمیری بھائیوں کےساتھ ہوں، اس وقت جب سب سے بڑا بحران ہمارے کشمیریوں پر ہے، میں نے پہلی مرتبہ بی جے پی اور مودی کی اصل شکل کو دنیا کے سامنے رکھا، بھارت سے ہمارے سامنے ایک مفادات کی کشمکش نہیں چل رہی بلکہ ہم ایک نظریے کے خلاف کھڑے ہیںِ اور یہ زیادہ خوفناک ہے، جب آپ ایک نظریے کے خلاف جنگ کریں تو وہ ایک مختلف چیز ہے اور اس کے حل الگ ہیں
انہوں نے کہا کہ اب میں دنیا میں آزاد جموں و کشمیر کا سفیر بنوں گااور کشمیر کا معاملہ پوری دنیا میں پہنچاؤں گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک خوفناک نظریہ کھڑا ہے، جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس کا مودی بچپن سے ممبر ہے، آر ایس ایس نے اپنا نظریہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے لیا، اس نظریے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے، یہ لوگ عیسائیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ان پر حکومت کی، آر ایس ایس نے ماضی اپنے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ مسلمان حکومت نہ کرتے تو ہم ایک عظیم قوم بننے جارہے تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس نظریے میں انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی بھی رکھی ہوئی ہے، یہ نظریہ ہم سمجھ جائیں تو بہت چیزیں سمجھ آجائیں گی، قائد اعظم اسی لیے پاکستان کی تحریک پر گئے کیونکہ سمجھ گئے تھے کہ یہ جو آزادی مانگ رہے ہیں وہ ہمارے لیے نہیں۔
انہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت دیکھ لی تھی، اس نظریے نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا اسی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، مقبوضہ کشمیر پر جو ظلم کیے وہ اسی نظریے کے تحت تھا، مودی نے جو کارڈ کھیلا وہ اس نظریے کا فائنل حل تھا۔انہوں نے کہا کہ مودی نے کشمیر پر جو قدم اٹھایا ہمیں خوف ہے کہ کرفیو اٹھے گا تو کیا کیا پتا چلے گا، وہاں اتنی فوج بھیجنے کی کیا ضرورت تھی، وہاں سے سیاحوں اور زائرین کو نکال لیا گیا، سب کو خوف ہے یہ کیا کرنے جارہے ہیں، میں سمجھتا ہوں مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل دیا ہے۔
انہوں نے ایک اسٹریٹجک بلنڈر کردیا ہے، یہ مودی اور بی جے پی کو بہت بھاری پڑے گا، انہوں نے کشمیر کو بین الاقوامی کردیا ہے، کشمیر پر بات کرنا بہت مشکل تھا، میں نے او آئی سی اور ٹرمپ سے بھی بات کی، لوگوں کو اندازہ نہیں تا وہاں کیا ہورہا ہے، اب دنیا کی نظر کشمیر پر ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ اسے مزید کیسے عالمی دنیا تک لے کر جائیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی پارلیمنٹ کے سامنے ذمہ داری لیتا ہوں کہ کشمیر کی دنیا میں آواز اٹھانے والا سفیر بنوں گا، ہمیں دنیا کو آگاہ کرنا ہے کہ آر ایس ایس ایس کی نظریہ کیا ہے۔ دنیا نے نازی ظلم کے بعد بڑے قدم اٹھائے، اقوام متحدہ بنی، دنیا میں جو تباہی مچی تو دنیا نے فیصلہ کیا کہ اب نہیں ہونا چاہیے، دنیا نہیں جانتی یہ جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے یہ اتنا ہی خطرناک ہے، ان کے بیمار ذہنوں میں نفرتیں بھری ہیں، دنیا بھارت کو برداشت والا ملک سمجھتی تھی اور پاکسان کو ہمیشہ دہشگرد کہتے تھے، اب اس نظریے کا سب سے بڑا نقصان بھارت کو ہوگا۔




































