
نیویارک (ویب ڈیسک )وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کریں
گے اورمودی کے اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کوسرایا گیا ہے۔مودی کی حماقت سے کشمیر کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔
نیویارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سینٹر لنزے گراہم نے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ،طالبان سے کیا بات ہوئی ہے زلمے خیل زاد نے تفصیل سے بتایا،لنزے گراہم کی بات امریکی ایوانوں میں توجہ سے سنی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی لڑائی ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں ہے یہ طویل لڑائی ہے ،بھارت میں وہ طبقات جو سمجھتے ہیں مود ی ٹھیک نہیں ہے اور ان کا پانچ اگست کا اقدام آئین واقانون کے خلاف ہے تو انہیں اس کیخلاف آگے آنا چاہیے ۔
ہیوسٹن ہزاروں پاکستانی ،کشمیری اوراقوام عالم کے افراد کشمیریوں کے حق میں ازخود مظاہرے کر رہے ہیں ،یہ ان کا جذبہ ہے ،اس کیلئے انہوں نے باقاعدہ اجازت طلب کررکھی تھی ۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صدرٹرمپ کوکشمیر کی صورتحال سے آگا کریں گے ،انہیں بتایا یا جائے گا کہ مودی کشمیر کی جوتصویر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے وہ درست نہیں ،صورتحا ل بہت سنگین ہے۔
افغانستان کا حل فوجی نہیں ،مذاکرات کے ذریعے ہے ۔مذاکرات نہیں ہوتے ہو امن عمل متاثر ہوسکتا ہے ۔افغانستان امن چاہتا ہے تو افغانستان کو مذاکرات کیلئے بیٹھنا ہوگا۔زلمے خلیل زاد نے افغان عمل میں پاکستان کے کرادار کوسراہا ہے ۔




































