
اسلام آباد(ویب ڈیسک)حزب اختلاف کی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے
خلاف فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا غیر رسمی اجلاس ہوا جس میں اکرم خان درانی،احسن اقبال، طاہر بزنجو، نیئر بخاری، میاں افتخار، عثمان کاکڑ اور فرحت اللہ بابر شریک ہوئے۔
کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کرانے کیلئے دباؤبڑھانے اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کیا جبکہ فارن فنڈنگ کیس پر اعلی عدلیہ سے رجوع کرنے پر بھی غور کیا گیا.اجلاس کے بعد رہبر کمیٹی کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس سے پیدل ہی احتجاج کے لیے الیکشن کمیشن پہنچے ارکان اسمبلی نے احتجاج کرتے ہوئے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی روانہ کی بنیاد پر سماعت کا مطالبہ کیا۔
رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ کیس میں تاخیر ملک کے لیے نقصان دہ ہے، الیکن کمیشن سے درخواست ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کی جائے اور کیس کا جلد فیصلہ کرے، جس روز فیصلہ آئے گا تو پوری تحریک انصاف ختم ہو جائے گی۔
نون لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ تحریک انصاف نے درجنوں بے نامی اکاؤنٹس رکھے اور ان کی تفصیلات پیش نہیں کیں،پاکستان دشمن فنڈنگ بھی پی ٹی آئی کو ملتی رہی ہے، امریکا،یورپ،بھارت،مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے ذاتی اکاؤنٹس میں پیسے آتے۔بیرون ملک سے پیسہ عمران خان کے اکاؤنٹ میں آتا تھا، اگلے مہینے چیف الیکشن کمشنرریٹائرہوجائیں گے، پی ٹی آئی کوشش کررہی ہے کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل ختم ہوجائے تاکہ مقدمے کی کارروائی غیرموثرہوجائے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) نے آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر آزادی مارچ ختم کیا گیا، اکرم درانی کا کہنا ہے کہ نئے پلان کے تحت ہفتے میں 1،2 جلسے جلوس ہوں گے.۔
اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ اس مقدمہ میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ نیئر بخاری نے کہا کہ ہمیں امید ہے چیف الیکشن کمشنر اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے اس کیس کا فیصلہ کریں گے۔ بعد ازاں رہبر کمیٹی کے ممبران نے سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنی یاداشت پیش کی۔




































