
اسلام آباد (ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہیپاکستان کو وہ ملک بنائیں گے کہ ساری دنیا اس کی مثال دے گی،جو
قوم نسلوں کے مستقبل کا نہیں سوچتی برباد ہو جا تی ہیں، کہ جس طرح ہم چل رہے تھے ہم غلط راستے پر چلے گئے اس لیے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہے ،لو گ آہستہ آہستہ ٹیکس دینا شروع کر رہے ہیں پیسہ آرہا ہے۔ نیا پاکستان ذہنوں میں پہلے زمین پر بعد میں آئے گا،
اسلام آباد میں کلین اینڈ گرین پاکستان انڈیکس کی تقریب س میں وزیراعظم عمران خان کا ماحولیاتی آلودگی پر بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آج آپ لاہور میں سانس نہیں لے سکتے، وہاں کے حالات سے بوڑھے اور بچوں کی زندگی کو خطرات ہیں۔ وہاں فضائی آلودگی آخری حد تک پہنچ گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک خاموش قاتل ہے، اس کا پتا نہیں چلتا کہ کتنے لوگ اس کا شکار ہوگئے ہیں یہ آہستہ آہستہ ہمیں متا ثر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دلی کو آلودہ ترین سمجھتے تھے جہاں لوگوں کے بہت برے حالات ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے لاہور اس حد تک پہنچ گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی نے نہیں سوچا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے، ہم درخت کاٹتے جارہے ہی، 10 سال میں لاہور کے 70 فیصد درخت کاٹ دیے گئے، ہم نے اپنے دریاؤں میں سیوریج پھینک کر انہیں بھی خراب کردیا، لوگ ان کا پانی پیتے ہیں، جن نہروں سے لوگ پانی پیتے تھے وہ سیوریج ڈرم بن گئی ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت ملک کو کلین گرین اکیلے نہیں کرسکتی، انتظامیہ منتخب لوگ اس کا حصہ بنیں، نوجوان بھی صاف اور ہرے پاکستان میں شرکت کریں حکومت کی اس پر پوری توجہ ہے، ہم اس پاکستان کی قدر نہیں کررہے جب ہم اس کی قدر کریں گے تو یہی پاکستان سونا اگلے گا۔
عمران خان نے کہا کہ ہم پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین بلدیاتی نظام لا رہے ہیں، سندھ میں ہماری حکومت نہیں لیکن انہیں ہم بتائیں گے اگر انہیں ترقی کرنا ہے تو اس نظام کے بغیر نہیں کرسکتے، پنجاب اور کے پی میں جو نظام لارہے ہیں یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں گے اور لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔




































