
اسلام آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے
کہ عالمی ادارے معیشت کے استحکام کیلئے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں، ماضی کی طرح دوبارہ آئی ایم ایف کی طرف نہیں جائیں گے، حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے اور اقدامات کئے ہیں، اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختاری دی گئی ہے، گذشتہ پانچ ماہ میں اقتصادی محاذ پر اہم کامیابیاں ملی ہیں، رواں ماہ میں برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، حسابات جاریہ کے خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے، مالی خسارہ پر قابو پایا گیا، مالی خسارہ پر نہ صرف قابو پایا بلکہ انٹرسٹ پیمنٹ کو نکال دیا جائے تو یہ سرپلس میں آ جاتا ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔
وزیر مملکت اقتصادی امور حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر سیّد شبر زیدی کے ہمراہ میڈیا سے گفت گو میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ میں اقتصادی محاذ پر اہم کامیابیاں ملی ہیں، رواں ماہ میں برآمدات میں 10 فیصد اضافہ ہوا، حسابات جاریہ کے خسارہ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ میں حسابات جاریہ کے خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے، مالی خسارہ پر قابو پایا گیا۔ نہ صرف مالی خسارہ پر قابو پایا بلکہ اگر انٹرسٹ پیمنٹ کو نکال دیا جائے تو یہ سرپلس میں آ جاتا ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے صدر یہاں آئے، انہوں نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا، ایشین؎ ڈویلپمنٹ بینک اور پاکستان کے خصوصی تعلقات ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی کارکردگی کو بہتر جان کر پاکستان میں مزید 3 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری دی جو پاکستان کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح آئی ایم ایف دنیا کا سب بڑا مالی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں کے بارے میں رائے دیتا ہے، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان آئی۔
انہوں نے حکومت کی کارکردگی دیکھا اور جانچا، آئی ایم ایف کی ٹیم نے کہا کہ پاکستان نے جو وعدے اور جو معاہدے کئے تھے وہ بخوبی پورے کئے گئے ہیں، ٹیم نے آئی ایم ایف بورڈ کو سفارش کی ہے کہ پاکستان کیلئے 500 ملین ڈالر کی دوسری قسط فوری طور پر جاری کی جائے۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موڈیز نے کل جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں پاکستان کی ریٹنگ کو منفی سے مستحکم قرار دیا گیا ہے، اس رپورٹ سے پوری دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ پاکستان میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں اور اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں جسے عالمی ادارے سراہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں گذشتہ سال کی نسبت 236 فیصد اضافہ ہوا، سٹاک مارکیٹ 40 ہزار کی نفسیاتی سطح عبور کر گئی ہے، بلومبرگ جیسے اداروں نے بھی کہا ہے کہ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ بن گئی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر سیّد شبیر زیدی نے اس موقع پر کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اب نظام میں افراد کا عمل دخل کم کیا گیا ہے، ٹیکسٹائل کے شعبہ میں 4 ماہ کے عرصہ میں 25 ارب کے کلیمز آئے جس میں سے 5 ارب کے کلیمز ادا ہو چکے ہیں، ان میں سے 16 ارب کے ریفنڈ کلیم کئے گئے ہیں لیکن فارم ایچ جمع نہیں کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ریفنڈ کے 1800 کیسز میں 1604 پر ریفنڈ دیئے گئے ہیں، فارم ایچ میں مسائل آ رہے ہیں لیکن اس کو بھی حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی ڈرا بیکس اور ریبٹس سے متعلق مسائل پر ایک میٹنگ ہوئی ہے، زیر التواء تمام معاملات کو حل کیا جائے گا، ایف بی آر میں ٹرانسفر کیلئے شفاف اور مؤثر پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے۔




































