
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق
اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے ایوان میں آزادی رائے کے حوالے سے غلط بیانی کی ہے۔ ایوان میں غلط بیانی پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرتی ہے، پاکستان میں ہر شہری کو آزادی رائے کا مکمل حق حاصل ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ چند عناصر صحافتی آزادی کی آڑ میں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، وزیراعظم نے صحافتی شعبے کو درپیش مستقبل کے چیلنجز کو حل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، عالمی معاشی ادارے پاکستان کی معیشت کے استحکام کی نوید سنا رہے ہیں،یونیورسٹیز کو اسلحہ اور منشیات سے پاک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صحافیوں کے مسائل سے متعلق ایوان میں بات ہوئی اس حوالے سے اپوزیشن نے حقائق کو مسخ کرکے جس طرح کے اعداد وشمار دیئے ہیں کہ پاکستان میں آزادی صحافت پر پابندیوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،یہ ایک تاثر کئی ماہ سے دیا جارہا ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا پر یہ ایک زہریلہ پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے تنگ ہو رہا ہے اور موجودہ حکومت صحافیوں کا گلہ گھونٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس طرح کے پرپیگنڈے سے نمٹنے کے لیے میری ذمہ داری لگائی ہے۔ اس لئے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں ہر شہری کو آزادی رائے کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والاواقعہ افسوسناک ہے، وزیراعظم اس مسئلہ سے آگاہ ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یوتھ کی صلاحیتوں کو درست سمت پر گامزن کرنے کے لیے یونین کردار ادا کر سکتی ہیں، کچھ ضابطہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء یونین سے جرائم پیشہ اور اسلحہ سے لیس اور منشیات کا خاتمہ کیا جاسکے۔




































