
اسلام آباد(ویب ڈیسک )قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل 2019 کی منظوری اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامے کے باوجود دے دی گئی ۔
بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے احتجاج کیا اور رائے شماری کے دوران اپوزیشن اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فنانس بل کو 5 اوور کے میچ کی طرح نمٹایا گیا۔
قبل ازیں اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے فنانس بل پیش کرنے پر اپوزیشن نے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔
جے یو آئی (ف) کے رہنما اسعد محمود نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرسوں سے قرارداد مذمت پیش کرنا چاہتے ہیں جو آپ پیش نہیں کرنے دے رہے۔
مولانا اسعد محمود نے اسپیکر کی اجازت کے بغیر ہی قرار داد پیش کرنا شروع کر دی۔
جس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایسے آپ قرارداد پیش نہیں کر سکتے، اس کے لیے پہلے نوٹس دینا پڑتا ہے۔
اسد قیصر نے مولانا اسعد محمود کو قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے مائیک وزیر خزانہ اسد عمر کو دے دیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اسد عمر کو فنانس بل پیش کرنے کی اجازت دینے پر اپوزیشن ارکان نے نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔
اپوزیشن کے احتجاج میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔





































