
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے مقدمے سزا یافتہ ملزم کو سزا پوری ہونے پر رہا کرنے کا حکم
دیدیا ہے ،ملزم ثقلین کو 2015 میں فیس بک پر نبی پاک بارے متنازعہ پوسٹ کرنے کا پر گرفتار کیا گیا تھا،ملزم کیخلاف فیصل آباد میں مقدمہ قائم کیا گیاتھا۔
دوران سماعت وکیل ملازم نے موقف اپناےا کہ جس اکاو¿نٹ سے پوسٹ ہوئی وہ میرے موکل کا نہیں، میرے موکل سے جو موبائل برآمد ہوا اس میں سم ٹیلی نار کی تھی،جس موبائل کی فرانزک رپورٹ لگائی گئی میں سم زونگ کی اور موبائل بھی مختلف ہے۔
آج کل لوگ فیک اکاو¿نٹس بھی بناتے ہیں،میرے موکل کا بھی فیک اکاونٹ بنایا گیا، ملزم کو ٹرائل کورٹ نے 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی،اس موقع پر ملزم کے وکیل نےعدالت سے جرمانہ کی رقم معاف کرنے کی استدعابھی کی ۔
جسٹس قاضی امین نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہکسی عام شخص کیخلاف بھی کسی کو فیس بک پر لکھنے کا حق نہیں ہے،نبی پاک کے بارے میں تو کوئی بات قابل برداشت ہو ہی نہیں سکتی، ملزم کی سزا کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا،سپریم کورٹ نے سزا پوری ہونے پرجرمانہ معافی کی استدعا مستر دکرتے ہوئے ملزم کی رہائی کے احکامات دے دیئے ہیں۔




































