
لاہور(ویب ڈسیک)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کو ہرشعبے میں50 فیصد نمائندگی
دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں عورت مارچ نہیں کرسکتی، لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ پرانی ہے، آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی۔
خواتین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کی بات ہوتو بے نظیر کا نام لیا جاتا ہے۔پاکستان میں خواتین کو برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ہم نے خواتین کیلئے قوانین بنائے اور جدوجہد بھی کی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا۔ ہم نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون کو وزیراعظم منتخب کیا، پیپلزپارٹی کے دور میں پہلی مسلم خاتون وزیراعظم محترمہ شہید بےنظیر بھٹو بنی، پہلی جج ہمارے دور میں بنیں، لیڈی ہیلتھ ورکر کوہمارے دور میں روزگار دیا گیا۔
اگر تنخواہ میں اضافہ ہوا تو پیپلزپارٹی کے دورمیں ہوا۔ اس ملک کی عورت کو پتا ہے کہ معاشی صورتحال کیا ہے۔ اس ملک کی ہر عورت کو یہ بھی پتا ہے بزرگوں کا علاج کرانا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی جماعت اس ملک کے مستقبل کیلئے کام کرتی ہے تو وہ صرف پیپلزپارٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ خواتین میاں صاحب کی حکومت ہو، یا عمران خان کی حکومت ہو، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہم اس پروگرام کی بجائے اس کے ساتھ کوئی اور منصوبہ لے کرآئیں، انہوں نے بس سوچا کہ بے نظیر کی تصویر کو کیسے ہٹانا ہے۔
بلاول بھٹو نے خواتین کو ہرشعبے میں50 فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں عورت مارچ نہیں کرسکتی۔ لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سوچ پرانی ہے۔ آج پاکستان کی ہرعورت مارچ کرے گی۔
ہم عورتوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کسی کواجازت نہیں دیں گے کہ وہ عورتوں کو بتائیں کہ کس طرح سیاست اور احتجاج کرنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرے۔




































