
اسلام آباد (ویب ڈیسک،خبر ایجنسی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو ساتھ
دینا ہو گا، ملکی معیشت اور غریب عوام مکمل لاک ڈاﺅن کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں چین کی طرح سماجی ڈسپلن کا مظاہرہ کرنا ہو گا، موجودہ حالات میں معاشی توازن قائم رکھنے کیلئے آئندہ ہفتے پیکیج کا اعلان کیا جائے گا، عوام افراتفری کا شکار ہونے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، میڈیا کو اس سلسلے میں سنسنی پھیلانے سے گریز کرتے ہوئے ذمہ دارانہ کردار اداکرنا چاہئے، عالمی برادری ایران سے پابندیاں اٹھائے تاکہ وہ اس آفات پر قابو پا سکے۔
وہ سینئر صحافیوں کے ساتھ کورونا وائرس کے حوالے سے ایک نشست میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر 15 جنوری سے اقدامات شروع کر دیئے تھے، اس دوران 9 لاکھ لوگوں کی ا سکریننگ کی گئی ہے۔ ہم نے دنیا کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے وائرس سے بچاﺅ کے اقدامات کئے، جب ملک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 20 تک پہنچی تو ہم نے فوراً قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اجتماعات پر پابندی لگا دی،ا سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور مدارس بند کر دیئے، اس سے بہتر اور بروقت ردعمل اور کیا ہو سکتا تھا
۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابتداءمیں تفتان میں سہولیات کا فقدان رہا تاہم بعد میں صورتحال کو قابو کر لیا تھا، وزیراعلیٰ بلوچستان کو مورد الزام ٹھہرانا زیادتی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے طلباءکو لانے کیلئے دباﺅ تھا لیکن چین نے ہمیں ان کا خیال رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، پاکستان میں چین سے کورونا کا ایک بھی کیس نہیں آیا جس پر چین کی قیادت کے عزم کو داد دیتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے تہران سے وائرس آنے سے صورتحال خراب ہوئی، ایران پابندیوں کا شکار ہے اور ان حالات میں یہ ظلم ہے، عالمی برادری ایران سے پابندیاں اٹھائے تاکہ وہ اس آفات پر قابو پا سکے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کے تجربات سے ثابت ہو گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کا سب سے موثر طریقہ احتیاط ہے، ہماری قوم کو اس حوالے سے ڈسپلن کا مظاہرہ کرناہوگا، عام میل جول اور اجتماعات سے گریز کریں، وائرس سے متاثرہ افراد خود کو الگ تھلگ رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں، ان اقدامات سے وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔۔ میڈیا کو اس حوالے سے سنسنی پھیلانے کی باجئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں رہنما اصول وضع کئے جا رہے ہیں جو میڈیا مالکان، اینکرز اور صحافیوں کو فراہم کئے جائیں گے۔




































