
کراچی (ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ہم مشکل اور تلخ فیصلے اپنی خوشی سے
نہیں کر رہے لیکن موجودہ صورتحال میں جبکہ کورونا ایک خطرناک وباء کی صورت میں دنیا بھر میں اپنی ہلاکت خیزیاں دکھا رہا ہے اور طبی ماہرین کے واضح بیانات ہیں کہ ابھی اس وباء کا خطرناک وقت آنے والا ہے اور مئی کے شرو ع اور درمیان میں یہ وباء مزید اپنے پنجے گاڑنے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وباء کو کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا اس اور ہر طرح کے اجتماعات سے اجتناب کریں اس وجہ سے حکومت سندھ نے علماء کرام سے مشاورت کی اور ان کی ہدایات کی روشنی میں یہ قدم اٹھایا کہ رمضان المبارک میں بھی اجتماعات سے اجتناب کیا جائے اور علماء کرام سے مشاورت کی روشنی میں تراویح کی نماز کو گھروں پر ادا کیا جائے۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اسی طرح سے کاروباری سرگرمیوں کو بھی محدود طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا اور اس کے اوقات کو بھی کم سے کم رکھا گیا ہے اور اس طرح کے ایس او پیز جاری کئے گئے ہیں کہ لوگوں کے ہجوم اور بھیڑ سے بچا جائے اور کاروبار کو آن لائن اور دوسرے طریقوں سے جاری رکھا جائے اور جیسے جیسے اس بیماری کی شدت کم ہوگی تو بتدریج مشاورت سے کاروبا ر مزید کھولے جائیں گے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پورے ملک کے ڈاکٹرز نے پریس کانفرنسز کر کے لوگوں کو آگاہی دی کہ اگر اجتماعات کو نہ روکا گیا تو یہ بیماری کنترول سے باہر ہوجائے گی اور ڈاکٹرز بھی اپنی خدمات انجام دینے سے قاصر ہوجائیں گے۔




































