
اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے28 اپریل کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے
لائن آف کنٹرول)ایل او سی) کے رکھ چکری سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین شدید زخمی ہوگئیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل(جنوبی ایشیا و سارک) زاہد حفیظ چوہدری نے احتجاجی مراسلہ بھارتی سینئر سفارتکار کے حوالہ کرتے ہوئے کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنارہی ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت ووقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحا منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 882 مرتبہ بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء وسارک) نے بھارت پر زوردیا کہ2003 ء کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے۔





































