
کراچی (رپورٹ: محمد سعاد صدیقی ) ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں ڈھائی ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کے سبب تمام پارکس اور تفریحی
مقامات بند ہیں جس کے باعث عید الفطر کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں اوربچوں کے چہرے مرجھا گئے ہیں۔
بچوں کا کہنا ہے کہ جائیں تو جائیں جہاں کہاں،پارکس بند ہیں،ڈھائی ماہ سے گھروں میں بند ہیں،ہمیں گھر والے باہر نکلنے نہیں دے رہے۔
ننھے 9سالہ سلیم کا کہنا ہے کہ ڈھا ئی ماہ سے کسی پارک میں نہیں گئے،کہاں جائیں،کورونا وائرس کی وجہ سے گھر میں رہنے کا کہا جارہا ہے۔12سالہ نوید نے کہا کہ نہ کسی سے گلے مل سکتے ہیں نہ ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ہماری عید پھیکی ہوگئی ہے۔10سالہ محمد عبید نے کہا کہ گرھ میں بالکل مزہ نہیں آرہا ہے۔پہلے جیسی بات نہیں ہے۔ 13سالہ محمد طلحہٰ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ تفریحی مقامات اور پاکس کو کھول دے۔
یاد رہے کہ کراچی میں الہ دین پارک،سفاری پارک،سندباد،پی اے ایف،عسکری امیوزمنٹ پارک سمیت دیگر تفریحی مقامات بند ہیں۔





































