
اسلام آباد (ویب ڈیسک) کورونا وباء اور مہنگائی سے پسی ہوئی عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے کے بعد ایل پی جی کا بم
گرا دیا گیا ہے، حکومت نے ایل پی جی کی قیمت بھی 5 روپے فی کلو اضافہ کر دیا۔ جس کے بعد گھریلو سیلنڈر کی قیمت میں 50 روپے جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 200 روپے اضافہ ہوگیا ہے۔
چیئرمین ایل پی جی ڈسٹر ی بیوشن عرفان کھوکھر نے بتایا کہ جون 2020 کے لئے اوگرا کی مقررہ 110 فی کلو گرام ایل پی جی کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کر بدنام کرنے کے لئے سرکاری مارکیٹنگ کمپنیاں متحرک ہیں۔حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لے بصورت دیگر حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔
انہوں نے گیس کی تقسیم کار کمپنی کے بورڈ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ گیس سپلائی کمپنی کی جانب سے جامشورو جوائنٹ وینچر جے جے وی ایل کے ساتھ ایل پی جی گیس پروسینگ کے معاہدے کی عدم تجدید سے قومی خزانے کو نہ صرف سالانہ تقریباً 14 ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا بلکہ ایل پی جی کی رسد میں کمی سے مارکیٹنگ کمپنیوں کو اضافے کا جواز مل جائے گا اور اس سے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریب طبقہ کے صارفین مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے۔




































