
اسلام آباد ( ویب ڈیسک)وفاقی کا بینہ نے کے الیکٹر ک کی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ
موخر کر دیا .ملک بھر میں ہوٹلز اور شادی ہالز کھولنے کا معاملہ وفاقی وزیر اسد عمر کے سپرد کر دیا جبکہ ڈی جی ایکریڈیشن کونسل اور ڈی جی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی ۔
وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں متعدد وزراءنے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی ،اجلاس میں 5 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی ومعاشی صورت حال سمیت کورونا وباءکیخلاف اقدامات کا جائزہ لیا گیا جبکہ کے الیکٹرک اورعزیر بلوچ سے متعلق جے آئی ٹی کے امور پر بھی زیر بحث آئے ۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے کے الیکٹرک کی بجلی کی قیمت میں اضافے کے علاوہ تمام ایجنڈے کی منظوری دید ی ہے ۔اجلاس میں کے الیکٹرک کی بجلی کی قیمت میں اضافہ کی سمری موخر کر دی ہے ،اجلاس میں کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد،کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال ، ملکی سیاسی، معاشی اور پارلیمانی امور پر بریفنگ تفصیلی بریفنگ دی گئی ،وفاقی کابینہ کو مویشی منڈیوں اور احتیاطی تدابیر سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا جبکہ اجلاس میںا سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی حکمت عملی نتائج پر بھی مشاورت کی گئی۔
وزیر اعظم اور کابینہ ارکان نے کورونا کیسز میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا، کابینہ نے کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی قیمتوں میں اضافہ کے فیصلے کی توثیق نہیں کی ،گیس کی قیمتوں میں 73 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا معاملہ موخر کر دیا ۔
اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ہوٹلوں اور مارکیز کھولنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ تمام کاروبار کھل چکے ہیں لیکن انہیں ابھی تک نہیں کھولا گیا جس پر وزیر اعظم نے معاملہ مشاورت کیلئے این سی او سی کو بھجوا دیا اور وفاقی وزیر اسد عمر کو ہدایت کی کہ ہوٹل اور مارکیٹس کھولنے کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور جلد از جلد اس سے آگاہ کریں۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے عزیر بلوچ اور جے آئی ٹی رپورٹ پر وفاقی کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی جبکہ معاملات کو سپریم کورٹ لے جانے سے متعلق بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا ۔وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ختم نہیں ہوا، ابھی مزید احتیاط برتنا ہوگی ، عیدالاضحیٰ پر شہری احتیاط کریں،گھروں تک محدود رینا زیادہ مناسب ہوگا۔




































