
اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے
مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے آرڈیننس لانے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس معاملہ کو مزید نہ لٹکایا جائے اور اس کو اگلے تین سے چار روز میں نافذ کیا جائے۔
ہفتہ کے روز وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر بیرسٹر محمد فروغ نسیم، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس معاملہ پر قانون سازی کے لئے وزیر اعظم نے مزید وقت دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ فاسٹ ٹریک مقدمات کے ذریعہ انصاف کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموںکے خلاف سخت قانون لایا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا قانون لایا جائے کے متاثرہ خواتین اور بچے بلاخوف وخطر اپنی شکایات درج کر اسکیں اور قانون میں متاثرہ خواتین اور بچوں کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جائے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا چاہتے ہیں ۔وزیر اعظم کو زیادتی کے کیسز میں گواہوں کے تحفظ کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی ۔وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے اور سنگین نوعیت کے معاملات پر ایک لمحہ کی تاخیر بھی نقصان دہ ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ عامہ ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اس معاملہ پر کافی دیر سے کام کروارہے ہیں، ہمارے بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی سب سے بڑا ایشوہے اور اس کے بعد انہیں ایسا ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنی بات کرسکیں کیونکہ ہمارے ہاں لوگوں سماجی طور اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اس وجہ سے لوگ کھل کر کئی دفعہ مقدمات ہی نہیں کرتے اور اگر مقدمات کریں تو کھل کر اس کے ثبوت نہیں دے پاتے، انہیں وہ دوستانہ ماحول نہیں ملتا جس میں وہ اپنے خلاف ہوئے ظلم پر انصاف حاصل کرسکیں۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس معاملہ کو مزید نہ لٹکایا جائے اور اس کو اگلے تین سے چار روز میں نافذ کیا جائے۔ وزیر قانون اور وزیر برائے انسانی حقوق اس کمیٹی میں ہیں اور اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں اور کام کررہے ہیں۔





































