
اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی ۔فوٹو فائل)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کو تحفظ اور
نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،کامیاب پاکستان منصوبے کے ذریعے کسانوں کو معاونت، سستی رہائش کی فراہمی اور کاروبار میں آسانی کیلئے آسان شرائط پر قرض فراہم کیے جائیں گے۔پوری دنیا میں اشیا کی قیمتوں میں 40فی صد تک اضافہ ہوا ہے، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ عوام پر بوجھ کم کرکے ریلیف فراہم کیا جائے۔
یہ بات انہوں نے عالمی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا ہارٹ وِگ شکافر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو وزیراعظم سے ملاقات کی، ملاقات میں کنٹری ڈائیریکٹر عالمی بنک ناجے بنحسین، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ، وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب، گورنر سٹیٹ بنک رضا باقر اوردیگر متعلقہ اعلی افسران بھی موجود تھے ۔
ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال خاص طور پر کورونا کے باوجود مثبت معاشی اعشاریوں، گردشی قرضوں میں خاطر خواہ کمی اور برآمدات میں اضافے حکومت کے اقدامات جن میں SDGs پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کسانوں کی آسان قرضوں سے معاونت و منڈیوں تک بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ذریعے رسائی، آپٹیکل فائیبر سے مواصلات کے نظام میں بہتری جس کی وجہ سے لاک ڈان میں تعلیمی سرگرمیوں کو فعال رکھنے میں معاونت، انضمام شدہ اضلاع کے لوگوں کی ترقی کیلئے اٹھائے اقدامات، ماحولیاتی آلودگی کے سدباب جس میں جنگلات کی بھالی، بلین ٹری سونامی اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں پر پابندی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایم ایف پروگرام میں شامل دیگر ممالک کی نسبت گزشتہ سال پاکستان میں جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح ، معاشی شعبے میں اصلاحات اور معاشی ترقی میں تمام طبقوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں بتایا گیا کہ پاکستان موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے معاشی ترقی کی پالیسی اپنا رہا ہے جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہونگے بلکہ ملکی ریونیو بھی بڑھے گا اور لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔




































