
کراچی ( ویب ڈیسک ) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کو مزید وسیع کر دیا گیا جبکہ حکام نے جاں بحق افراد کی لاشوں کے نمونوں کا
کیمیکل معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے یہ جانچ کی جائے گی کہ آیا عمارت میں کسی قسم کے کیمیکلز موجود تھے یا نہیں، جبکہ آگ کے غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیلنے کی وجوہات بھی تحقیقات کا حصہ ہوں گی۔
تحقیقاتی عمل کے تحت گل پلازہ سے کیمیکل تجزیے کیلئے نمونے جمع کیے جائیں گے، جبکہ مارکیٹ سے وابستہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے،دوسری جانب ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران گل پلازہ کے ملبے سے نقدی برآمد ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق سرچنگ کے دوران بڑی مقدار میں ملنے والی نقد رقم متعلقہ اداروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک دکاندار نے بتایا کہ مختلف دکانوں میں موجود لوہے کی درازوں اور لاکرز سے رقوم برآمد ہو رہی ہیں، جبکہ مبینہ طور پر رقم لے کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے،ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو کا کہنا ہے کہ متاثرین کی ہر چیز امانت ہے اور اسے مکمل تحفظ کے ساتھ محفوظ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کا ملبہ لے جانے والے دو ڈمپرز کے غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم انہیں جلد تلاش کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے دو ڈمپرز کے غائب ہونے کی خبر کی تردید کر دی ہے۔





































