
اسلام آباد:اسلام آباد میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پولیس نے حراست میں
لے لیا۔ پولیس کے مطابق ایمان مزاری کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی روک کر گرفتار کیا گیا جبکہ کچھ دیر بعد ہادی علی چٹھہ کو بھی تحویل میں لے لیا گیا۔
گرفتاری سے قبل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وہ آئین اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہیں اور اپنے نظریے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ چاہے اس کی قیمت انہیں جیل جا کر ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے، انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اپنے کسی عمل پر نہ تو ندامت ہے اور نہ ہی کوئی پچھتاوا۔
دوسری جانب ہادی علی چٹھہ نے کہا تھا کہ انہوں نے بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں کے سامنے خود کو پیش کیا ہے اور وہ وہیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا ہے تو وہ وہیں سے کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ گواہوں پر جرح کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق مقررہ مدت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں حکم نامہ خود بخود غیر مؤثر تصور کیا جانا تھا۔





































