
کراچی ( قرۃ العین / محمد عبید / نمائندگان رنگ نو) رنگ نو ڈاٹ کام کےتحت 4کتابوں کی تقریب رونمائی گزشتہ روز کراچی
پریس کلب میں منعقد ہوئی ۔ کتابوں میں بچوں کی دوکتابوں میں جگ مگ تارے ،ننھی کلیوں سے باتیں،اصلاحی مضامین ومعاشرتی تحریروں دوکتابیں بولتی تحریریں اور سیپ کے موتی شامل تھیں ۔
تقریب کی صدارت پردفیسر سلیم مغل نے کی ،مہمان خصوصی ممتاز ادیبہ واستاد پروفیسرڈاکٹر فرحت عظیم تھیں ۔ ادیب ،دانشور ،وشاعر،مفسر اقبالیات اور سیرت نگار پروفیسر خیال آفاقی ،نجی بینک کے جنرل منیجر وہیڈ آف ایڈمنسٹریشن ریاض جوئیہ مہمان اعزازی تھے ،تقریب سے سی ای اورنگ نو وسینئر صحافی زین صدیقی ،سابق صدر شعبہ اردو جامعہ اردو پروفیسر سعید حسن قادری ا،شاعر ،محقق ونقاد رانا خالد محمود قیصر ، سینئر براڈ کاسٹر ریڈیو پاکستان اظہر جان ،ڈائریکٹر یاسمین شوکت ، کتاب ننھی کلیوں سے باتیں کی مصنفہ محترمہ عائشہ بی اور کتاب سیپ کے موتی کی مصنفہ افروز عنایت نے اظہارخیال کیا ،اس موقع پر ڈاکٹر حسن رضا ،عبدالمعیز ،محمد سعاد اور قلم کاروں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔اس موقع پر رنگ نو کی 8ویں سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور مصنفین کو ایوارڈز دیئے گئے ،پبلی کیشنز کے شعبے میں بہترین پبلی کیشنز کا ایوارڈ محمد الیاس کو دیا گیا ،جبکہ کل کراچی مقابلہ ویڈیو گرافی میں پہلا انعام اذما اقبال کو دیا گیا ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے کتب بینی کے رجحان کو متاثر کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کتاب کی اہمیت ،ختم ہوگئی ہے ،کتاب کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی ،نئی نسل کو کتب بینی کی جانب لانے کی ضرورت ہے،معاشی بدحالی کی سب بات کرتے ہیں ،ادبی بدحالی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا ،مقررین کا کہنا کہ ہمیں اچھا ادب تخلق کرنا ہوگا ،اصلاحی ادب نئی نسل کے لیے کار گرثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتب کی اشاعت آج ہے مشکل عمل بن چکا ہے ،نئی نسل کو کتب بینی کی طرف لانا ہوگا ،نئی نسل میں موبائل کا استعمال یا سوشل میڈیا کا استعمال فروغ پارہا ہے ،سوشل میڈیا یا موبائل کتاب کا نعم البدل نہیں ۔مقررین کا کہنا تھا کہ والدین نئی نسل کی تربیت کی طرف خصوصی توجہ دیں تب ہی بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ننھی کلیوں سے باتیں ،جگ مگ تارے بچوں کے ادب میں بہترین اضافہ ہے ۔تمام مصنفین اور مرتبین کتب کو مبارک باد دی ۔





































