
کراچی ( رنگ نوڈاٹ کام )جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے معاملے پر گورنر سندھ سے مستعفی ہونے کا
مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے اعلان کے باوجود طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،جبکہ کے الیکٹرک کیخلاف تحریک کو آگے بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے شہر کے 400سے زائد مقامات پر دھرنوں کا بھی اعلان کردیا۔
امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے اج بدھ کی دوپہر ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اسامہ رضی اوررکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید بھی موجود تھے ۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہناتھا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے شاہراہ فیصل پر دیا جانے ولا دھرنا لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے اعلان پرموخر کیا گیا ،مگر لوڈشیڈنگ ختم نہیں کی گئی اورطویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کو مستعفی ہو جانا چاہیے ۔
حافظ نعیم الرحمن بدترین پرائیویٹائزیشن کے ذریعے قومی خزانے کے اربوں روپے لوٹے گئے ،کے ای کو 290ایم ایم سی گیس کی فراہمی کے باوجود لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ،کمپنی سوئی سدرن گیس کی 116رب کی نادہندہ ہے ،کوئی صارف بجلی کا بل ادا نہ کرے تو اس کا میٹر کاٹ دیا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک ڈیوٹی کے نام پر سندھ حکومت کو 10ارب روپے دیتی ہے ۔تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے الیکٹرک کو سپورٹ کرنے کیلئے کیا گیا تھا ۔حکومت اور سپریم کورٹ کا کام ہے کہ کے الیکٹرک کیخلاف شفاف تحقیقات کی جائیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کے کیخلاف تحریک کو آگے بڑھائے گی ۔400سے زائد مقامات پر دھرنے دیئے جائیں گے ۔




































