
کراچی ( ویب ڈیسک ) کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کو پیش آنے والے
ہولناک آتشزدگی کے سانحے کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خطرناک حد تک مخدوش قرار دیتے ہوئے آج مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 تک پہنچ گئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ نو سے دس روز کے دوران ملبے سے لاشوں اور انسانی باقیات کی تلاش کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور مزید لاشیں ملنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ تاہم احتیاطی تدبیر کے طور پر سروے ٹیم ایک مرتبہ پھر عمارت کا معائنہ کرے گی، جس کے بعد سرچ آپریشن کو باضابطہ طور پر مکمل قرار دیا جائے گا۔
انتظامیہ کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے 73 افراد کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے متعدد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔ لاپتا افراد کی فہرست 82 تک جا پہنچی ہے۔ مجموعی طور پر 23 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہےجن میں 16 کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔ اب تک 2 خواتین سمیت 22 میتیں ورثاء کے حوالے کی جا چکی ہیں جبکہ 55 خاندانوں نے ڈی این اے نمونے جمع کرا دیے ہیں۔ باقی خاندانوں کو بھی مقررہ مدت دی گئی ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 جاں بحق افراد کا مکمل ریکارڈ صوبائی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ورثاء میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ 13 افراد کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والے دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔ بعض خاندانوں کی جانب سے بارہا رابطے کے باوجود ڈی این اے نمونے فراہم نہ کیے جانے کے باعث شناخت کے عمل میں تاخیر بھی درپیش ہے۔
دوسری جانب پولیس نے گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ تھانہ نبی بخش میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد گواہوں اور متعلقہ عملے کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اب تک چھ سیکیورٹی گارڈز سمیت متعدد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور اگر تحقیقات کے دوران غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھر سانحے کی تکنیکی اور فارنزک تحقیقات کیلئےلاہور سے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم کراچی پہنچی جس نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا عمل بھی جاری رہا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں گزشتہ ہفتے اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 1200 دکانیں جل کر خاک ہو گئیں۔ فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے کی طویل جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پایا تھا،اس افسوسناک واقعے کے بعد کراچی بھر میں تجارتی عمارتوں کی فائر سیفٹی، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں جن کے جواب تلاش کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔





































