
کراچی(رپورٹ: سلمان غوری ) جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے تحت ” تعلیمی مسائل اور ان کا حل “ کے موضوع پر مذاکرہ امیر جماعت اسلامی
سندھ اور سابق ایم این اے محمد حسین محنتی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق ایم این اے اسد اللہ بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تعمیر میں کتاب اور نصاب سے زیادہ استاد کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔
اسد اللہ بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرہ میں بنیادی کشمکش دیانتدار اور شیطانی طاقتوں کے درمیان ہے جو نئی نسل کی تربیت اپنے نظریات کے مطابق کرنا چاہتی ہے۔ بچے ہمارے پاس امانت ہیں ہمیں ان کا ذہن اور کردار بنانا ہوگا۔ پروفیشنل تربیت کے ساتھ اخلاق کی اعلیٰ تعمیر کرنی ہوگی انہیں دین کا سپاہی بنانا ہوگا۔
صدر مجلس جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہر فرد کو ذہن سازی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اللہ کے دین کے نفاذ کے سپاہی بن سکیں کیونکہ نبی کے مطابق علم رکھنے والے علم نہ رکھنے والے برابر نہیں ہو سکتے،
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مختلف ادارے تشکیل دیئے ہیں تاکہ یہ موثر طور پر لوگوں کو اللہ کے دین کی دعوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے آنے والے نوجوان جماعت اسلامی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہر فرد کو سوچنا ہوگا کہ بچوں کی بہترین ذہن سازی کس طرح کی جاسکتی ہے
جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اسحق منصوری نے اس سلسلے میں مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کیا ۔
مذاکرے میں صوبائی نائب امیر عبدالغفار عمر، سابق ڈائریکٹر اسلامی نظامت تعلیم پاکستان مصباح الہدیٰ صدیقی ، جماعت اسلامی سندھ کے شعبہ تعلیم کے صدر ڈاکٹر اسحق منصوری، آفاق کے ریجنل ڈائریکٹر ز ضیاءالحسن قادری اور محمد پرویز ، نافع کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حنیف جدون، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سندھ کے صدر علیم قریشی، تنظیم اساتذہ کراچی کے صدر شفیق الرحمان عثمانی، جامعہ کراچی شعبہ معاشیات کے سابق سربراہ شفیق احمد اور دیگر ماہرین تعلیم پروفیسر مظہر، انتصار احمد غوری، سید افتخار احمد ، محمد یونس قادری، عبدالرزاق، ملک احمد تابش ، سعید احمد صدیقی، اقبال احمد یوسف نے بھی ش۔رکت کی.




































