
ٹنڈو آدم (رپورٹ: سلمان غوری )اندرون سندھ مختلف تعلیمی بورڈز کے تحت جاری میٹرک کے امتحانات میں نقل کا جن قابو نہ آسکا، انتظامیہ مکمل طورپرناکام ثابت
ہوگئی۔
امتحانات کی نگرانی کرنے والے اساتذہ اور اہلکار ہی نقل میں طلبہ کے معاون بن گئے،وزیرتعلیم،سیکرٹری تعلیم اوردیگرحکام نے مختلف امتحانی مراکز پر اچانک چھاپے مارکر نقل کروانے،غفلت اور بدانتظامی میں ملوث ایکسٹرنل،انٹرنل اورہیڈماسٹروں سمیت16 اساتذہ کو معطل کردیا۔
میرپورخاص ڈویژن میں بورڈ کی مختلف ٹیموں نےدرجنوں امتحانی سینٹروں پر چھاپے مارے اور تقریباً 70کاپی کیس کیے اور 20جعلی امیدواروں کو پکڑا جو اصل امیدوار کی جگہ امتحان دے رہے تھے ۔
تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے زیر اہتمام 10 اضلاع میں دسویں جماعت کا انگریزی کا پرچہ لیا گیا جس میں بوٹی مافیا کی مدد سے طلباءموبائل فون اوردیگر مواد کے ذریعے کھلے عام نقل کرتے رہے۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے قمبرکے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اور گورنمنٹ گرلزہائی اسکول میں قائم امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا۔
امتحانی مراکز میں موبائل فونز کے ذریعے کھلی نقل جاری تھی۔وزیرتعلیم نےہیڈماسٹر، ایکسٹرنل اور کمرہ امتحان میں ڈیوٹی دینے والے دو اساتذہ کو معطل کردیا۔ کھڈرو میں امتحانی سینٹر پر سیکریٹری تعلیم سندھ قاضی شاہد پرویز نے ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مارا ۔امتحانی مرکز پر بد انتظامی دیکھ کر سیکریٹری تعلیم برہم ہوگئے۔
انہوں نےنقل کی روک تھام میں ناکامی پر امتحانی مرکز میں ڈیوٹی انجام دینے والے انٹرنل سمیت چار استادوں کو معطل اور امتحانی مرکز کو بلیک لسٹ کردیا۔سیکریٹری تعلیم شاہد پرویز نے شاہپورچاکر ہائرسیکنڈری اسکول میں بھی چھاپہ مارا اورطلباء کو نقل کروانے والے انٹرنل 2 ایکسٹرنل سمیت 8 اساتذہ کو معطل کردیا ۔




































