
اسلا م آباد(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی) اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی میں
جمعیت کی طرف سے منعقدہ میگا ایجوکیشنل ایکسپو میں سرائیکی کونسل کی طرف سے حملے میں جمعیت کے نوجوان کی شہادت پراسلامی جمعیت طلبہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان شجاع الحق بیگ،ناظم جمعیت پنجاب شاہزیب احمد ڈار،مرکزی سیکرٹری اطلاعات راناعثمان،ناظم اسلامی یونیورسٹی فہد خان بابر،ناظم اسلام آبادسید اتصور کاظمی،ناظم راولپنڈی سرمد تنویرنے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں کشیدگی میں انتظامیہ نے کلیدی کردار ادا کیاہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بارفائر کرکے طالب علم کوشہیدکردیاگیا۔فائرنگ کے نتیجہ میں شہادت انتظامیہ کے منہ پر بہت بڑا طمانچہ ہے۔واضح رہے کہ اس معاملے کوگہرائی سمجھنے کی ضرورت ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ پر حملہ کرکے درحقیقت طلبہ یونین کی بحالی کیس کو دبایا جارہاہے۔اس سارے معاملے میں یونیورسٹی ریکٹر نے شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کی۔
اسلامی جمعیت طلبہ اس واقع کی مذمت کرتی ہے اور یہ مطالبہ رکھتی ہے کہ اگر ریکٹر کو فارغ نہ کیاگیا۔مطالبہ نہ مانے گئے توجمعیت پورے پاکستان میں احتجاج کاسلسلہ شروع کرے گی۔یونیورسٹی میں اس طرح سے پرامن پروگرام پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔اتنا بڑا حملہ ایک دن کی پلاننگ میں ممکن نہیں۔ہمیں حقائق کومدنظر رکھنا چاہیے کہ ان چند شرپسند عناصر کے پیچھے PTMکا ہاتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایک ماہ سے چیف سیکیورٹی آفیسر ہی تعینات نہیں،چیف سیکیورٹی آفیسر کا تعینات نہ ہونا انتظامیہ کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ان تمام گنڈہ گرداور شرپسند عناصر کے داخلے ریکٹر نے ہی کروائے ہیں۔یونیورسٹی میں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ آنا یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کاثبوت دیتا ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ریکٹرکو فی الفور فارغ کیاجائے اورایمل اور دیگر ملزمان کی ڈگریاں خارج کرکے ان پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جائیں۔




































