
لاہور(تعلیم ڈیسک )حکومت پنجاب نے سال 2020کے تعلیمی سیشن کا آغاز پانچویں جماعت تک اردو کو ذریعہ تعلیم
بنانے کے اعلان سے کیا ہے جو خوش آئندہ ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ ڈراپ آﺅٹ ریٹ میں کمی اور شرح خواندگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔
تنظیم اساتذہ پاکستانپنجاب کے نومنتخب صدر پروفیسر غلام اکبر قیصرانی نے ایک پریس بریفنگ میں کیا ہے۔ تنظیم کی صوبائی انتظامیہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں ایک قرارداد میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور اسے تعلیم دوست فیصلہ قرار دیا ہے ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے تعلیمی کوڈ آف ایتھکس کے مطابق "بچے کو گیارہ سال تک اس کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے"تعلیم کا ایک سنہر ا اصول ہے جس کی پاسداری برصغیر میں انگریز حکومت کے دور میں بھی کی جاتی رہی ۔
اقوام ِ متحدہ کے 193ممالک اپنے بچوں کو اپنی اپنی زبان میں تعلیم دے رہے ہیں۔ آج میڈیکل ، انجینئرنگ سمیت تمام سائنسی مضامین فرانسیسی ، روسی، چینی ، جاپانی اور کوریائی زبانوں میں پڑھائے جا رہے ہیں۔
دنیا میں علوم کے فروغ میں ترجمے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں فوری طور پر دارالتراجم قائم کئے جائیں اور جدید سائنسی علوم کو قومی زبان اردو (جو ملک کے تمام حصوں میں سمجھی اور بولی جاتی ہے ) میں منتقل کر کے طلبہ کے لیے علم کی راہیں آسان بنائی جائیں کیونکہ علم انسانیت کا مشترکہ سرمایہ اور زبان اس کو منتقل کرنے اور فروغ کا ذریعہ ہے۔لاہور(تعلیم ڈیسک )حکومت پنجاب نے سال 2020کے تعلیمی سیشن کا آغاز پانچویں جماعت تک اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے اعلان سے کیا ہے جو خوش آئندہ ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ ڈراپ آﺅٹ ریٹ میں کمی اور شرح خواندگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔




































