
کراچی (ویب ڈیسک ،فوٹو فائل)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتے تک بند رہنے کا اعلان کیا اور کہا کہ
اس دوران دوران اساتذہ ویکسینیشن کا عمل مکمل کر وائیں۔اسکول وہی طلبہ آئیں گے جن کے والدین نے ویکیسین کرالی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بات جمعہ کو چیف منسٹرہا?س میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی دیا جائے اس وقت ہمیں 19 فیصد قلت کا سامان ہے۔ ارسا سندھ کا مسئلہ حل کرے ،اگر ارسا اپنی مرضی سے فیصلے کرتا رہا تو یہ بحران شہروں میں پینے کے پانی تک پہنچ جائے گا۔
۔انہوں نے بتایا کہ کینجھر پر اس وقت 47.2 فٹ کا لیول ہے جبکہ کوٹری پر 36 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے جویک ہفتے بعد کم ہو جائے گا جس کے بعد کینجھر کو بھی پانی کم ملے گا۔مراد علی شاہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال میںہمیں پانی کے شدید بحران کا سامنا ہوسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ چشم جہلم اور توسہ دونوں چل رہے ہیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا اعتراض ارسا کے رویہ پر ہے کسی صوبے پر نہیں ہے۔ہم وفاق سے سخت احتجاج کرتے ہیں،کسی صوبے کو پیاسا نہ مارا جائے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے تو دعویٰ کردیا ہے کہ کوئی نہیں آیا بلکہ لوگ واپس جارہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورت حال پر وفاق نے صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پیر کو اس حوالے اجلاس میںصورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔




































