
نزہت ریاض /حریم ادب
عمیرہ احمد کا ایک بہت بہترین ناول پڑھا تھا جس کا عنوان تھا زندگی گلزار ہے ۔ ہرانسان کی زندگی گلزارہوسکتی ہے,بس تھوڑی سی کوشش اورتھوڑی سی
محنت کی ضرورت ہے،مگر أج ہم اپنے معاشرے میں چاروں طرف نظر دوڑائیں تو ہرانسان پریشان بیزار،چڑچڑا ،الجھا ہوا ہی نظر آتا ہے۔ہر شخص ہی مصروف ہے اور ہر دوسرا انسان وقت کی کمی کارونا روتا پھرتا ہے۔
آئیے أج تھوڑی دیر آرام سے بیٹھ کریہ سوچتے ہیں کہ آخر ہم اپنی زندگیوں سے اتنے بےزار کیوں ہو ئےہیں کیوں ہم زندگی کی گاڑی کوبس گھسیٹ رہے ہیں۔۔۔ کیوں ہم اپنی زندگی سے لطف نہیں حاصل کرپا رہے ۔
اللہ کی دی ہوئی بے شمارنعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ایک انسان کی زندگی ہےایک کہاوت توسب نے سنی ہوگی کہ" آج مرا کل دوسرا دن" اس کا مطلب یہی ہے کہ دنیا کے سارے جھمیلے انسان کی زندگی تک ہی ہیں جب کوئی مر جاتا ہےتومیت ایک طرف رکھی ہوتی ہےاور اس کے آس پاس اس کے قریبی رشتے تک ایک دوسرے کی غیبت اورفیشن پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر کیا یہ بہتر نہیں کہ جو زندگی اللہ نے ہمیں دی ہے اسے ہنسی خوشی گزاریں۔اب آپ لوگ سوچیں گے کہ زندگی میں مسئلے اتنے ہیں کہ ہنسی خوشی کیسے رہیں-
تواس کا جواب بھی ہمیں اپنےطرز زندگی پر نظرڈالنے سے مل سکتا ہے۔ ہم سادگی اپنا کراپنے بہت سے مسائل کا حل نکال سکتےہیں۔۔ہم اپنی ضروریات کو محدود کر سکتے ہیں ۔
آج کل خواتین کا سب سے بڑامسئلہ برانڈزہے۔ہم برانڈڈ چیزوں کے دیوانے ہوئے جا رہے ہیں۔ ہلکی اور سستی چیز استعمال کرنے میں ہمیں سبکی محسوس ہوتی ہے۔ کپڑے برانڈڈ چاہتے ہیں ۔میک اپ برانڈڈ چاہیے۔ پرس شوز برانڈڈ سے کم نہ ہوں ۔اس کے علاوہ دوسرا بڑا خرچہ جوزیادہ ترخواتین کی وجہ سے ہی مرد حضرات کی جیب پر بوجھ بناہوا ہے،وہ ہیں سسرال سے الگ ہو کر کرائے کے گھرمیں جا کررہنا۔
ماضی میں مشترکہ خاندانی نظام ہوا کرتے تھے،جس میں سب مل جل کر گھر کا خرچہ سرپرست کے ہاتھ میں دے دیا کرتے تھے اور بیگم کو الگ سے جیب خرچ دے دیا جاتا تھا،جس سےخرچہ بھی کم ہوتا تھا اور بڑوں کا چیک اینڈ بیلنس بھی رہتا تھا، مگر معذرت کے ساتھ آج کی لڑکیاں گھرسے تربیت ہی ایسی لے کر آتی ہیں کہ سسرال والوں کو زیادہ منہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ اپنے شوہرکےعلاوہ کسی کو زیادہ فری نہ کرنا ۔ اپنےجہیز کے سامان کو کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دینا اسی طرح کی باتوں کو دماغ میں رکھ کرجب لڑکی سسرال آئے گی تو کیا خاک وہ سسرال والوں کواپنا سمجھے گی نتیجہ یہ ہے کہ کچھ ہی دنوں میں ناچاقیاں شروع ہوجاتیں ہیں اورنتیجہ الگ ہونا نکلتا ہے۔
أج کل چھوٹے سےچھوٹے فلیٹ کا کرایہ بھی بیس سےپچیس ہزار ہے۔اس کے علاوہ گیس بجلی کا بل بلڈنگ کا مینٹینس پانی کے ٹینکرز میں حصہ ہرماہ کا اضافی خرچہ ہے۔
اب الگ رہنے کا ایک سب سے بڑا نقصان جوپیسوں کےخرچے سے کہیں بڑا ہے،وہ ہے بچوں کی تربیت جوائنٹ فیملی میں رہنے والے بچوں پر نظر رکھنےکے لیے باپ کے علاوہ دادا، دادی ،تایا ،چاچا موجود ہوتے ہیں مگر الگ رہنے والے بچے کےوالد صبح کے گئے شام کو کام سے واپس آتے ہیں تو بچے کو دیکھنے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتااورایسے بچوں کا بگڑنے کا ذیادہ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہےتو کیا یہ زیادہ بہتر نہیں تھا کہ ہم مل جل کر بڑوں کی موجودگی میں گزارہ کرلیتے۔
اب آتے ہیں بچوں کی اسکولنگ کی طرف تو جناب یہاں بھی حرص کا دامن ہم کیسے چھوڑدیں فلاں کا بچہ ہائی فائی فیس والےاسکول میں پڑھتا ہےتو میں کیسے کسی ہلکی فیس والےاسکول میں اپنے بچے کو داخل کرواؤں میری تو ناک ہی کٹ جائے گی حلانکہ ہمیں صرف تعلیم کا معیار دیکھنا چاہیے یہ پائویٹ اسکولز کی بیماری توابھی لاحق ہوئی ہے،کیا ہمارے سارے قابل لیڈرز سائنس دان اوررہنماؤں نے پرائیویٹ اسکولز سے تعلیم حاصل کی تھی ۔۔۔۔ نہیں تو پھرہم کیوں فیشن کی اندھی تقلید میں پاگل ہوئے جا رہےہیں بچے کو کم فیس والے اسکول میں داخل کروا کرہم اپنے بچے کو خود وقت دیں۔ آپ کی توجہ سے بچہ ضرور اچھی طرح پڑھے گا،مگرنہیں دس بیس کلو کا بیگ اٹھا کر بچہ پہلے اسکول سےتھکا ہارآئے گا پھروہی بوجھ اٹھا کروہ ٹیوشن سینٹر جائے گا،جہاں کئی جگہ کی فیس اسکول فیس سے بھی ذیادہ ہوتی ہےجو والد کی جیب پر مزید بوجھ ڈالتی ہے۔
اب آتے ہیں کھانے پینے کی طرف یہاں بھی سادگی کا قحط ہی پڑا ہے۔گھر کے بنےکھانے شوق سے کھانے کے بجائے بازار کے کھانوں کا شوق معاشرے میں بڑھتا ہی جارہا ہے۔گھر میں اگردال سبزی بنی ہے تو بچہ فوراً اپنے لیے کھانا آرڈرکر لیتا ہے،جس میں فوڈ فلیورزملا کر کرذائقہ تو ڈال دیا جاتا ہے مگرصحت کے اصولوں کا خیال بالکل بھی نہیں رکھا جاتا،جس کے نتیجے میں بچے جلدی بیمارپڑتے ہیں اورڈاکٹر کی بھاری فیس اور اس کی لکھی ہوئی مہنگی دوائیوں کاخرچہ الگ ہے،اس سے بہتر نہیں تھا کہ ہم بچے کو گھر کےبنے کھانوں کوشوق سے کھانے کی عادت ڈالیں۔
اس تحریرمیں اپنی پیاری بہنوں سے خاص طور پر مخاطب ہوں میری پیاری بہنوں سادگی کواپنی زندگی کا شعار بنائیں جو ہماری مذہب میں حکم بھی ہے اورمیرے پیارے نبی پاک اور ان کی ازواج مطہرات کی سنت بھی۔
ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھ کر ہم بھی اپنی زندگی کو گلزار بنا سکتے ہیں نہ کہ جیسے آج کل ہم اپنی زندگیوں سے ناخوش اوربے زاررہتے ہیں۔
اب آتے ہیں نکاح کی طرف جوایک فرض ہےاورہمیں اپنے بچوں کی شادی کر کے ادا کرنا ہوتا ہے۔اس فرض کو بچوں کے بالغ ہوتے ہی ادا کرنے کا حکم ہے،مگر ہم یہاں بھی دنیا داری کے چکر میں پڑے ہوئےہیں بیٹی اچھی تعلیم حاصل کرلے۔۔ بیٹا برسرروزگار ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے۔ دنیاوی تعلیم بھی ضروری ہے، مگرتعلیم حاصل کرتے کرتے بیٹی کے خیالات اتنے اونچے ہو جاتےہیں کہ وہ اپنے بنائے ہوئے معیار سے کم رشتے پرراضی ہی نہیں ہوتی۔۔۔ اسی طرح لڑکا ایسی لڑکی کی تلاش میں ہوتا ہےجو اس کے شانہ بشانہ گھرکا بوجھ اپنی جاب سےاٹھا سکے۔۔۔ یہاں بھی اگر ہم اپنے شاہانہ خرچے کم کر کر کے سادگی اپنایئں توماں اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکتی ہے ۔
تعلیم صرف روزگار کے ہی کام نہیں آتی بلکہ ایک پڑھی لکھی ماں ایک بہترین نسل تیار کرسکتی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ماں اپنے بچوں کو اچھی توجہ اور وقت دے پائے گی مگر آج کل کی مائیں اپنے بچوں کو بھرپور وقت دینے کے بجائے اپنے موبائل کووقت دینا زیادہ پسند کرتی ہیں۔
یہاں آپ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ میں عورت کو گھر میں قید کرکے رکھنے کی بات کررہی ہوں ۔۔ میری بات کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ماں کی پہلی توجہ اور دلچسپی اپنا گھر اوربچے ہونے چاہئیں اگران کو پراپر ٹائم دینے کے بعد أپ اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں اورآج زمانہ اتنا ترقی کر چکا ہے کہ خواتین گھر پررہتے ہوئے بھی بہت سے کاروبار کر سکتی ہیں۔
اب آتے ہیں شادی کی تقریبات کی طرف یقین کریں أج کل شادی کی کسی تقریب میں جا کر دولہا دلہن کو دعائیں دینے کے بجائے انہیں گالیاں دینے کا دل چاہتا ہے،جو بے ہودگیاں أج کل فوٹو شوٹ کےنام پرشادی کی تقریبات میں ہو رہی ہوتی ہیں ۔۔۔ اس سے پہلے تو ہم نے نہ کہیں دیکھیں ،نہ سنیں ابھی حال ہی میں ہمارےہرفن مولا سیلبرٹی عامرلیاقت صاحب نے ڈپریشن کی وجہ سے اپنی جان گنوا ڈالی ۔۔ ان کی بیگم نےان کی نازیبا ویڈیوزبنا کرسوشل میڈیا پر شیئرکر ڈالیں۔ اس واقعے کے بعد تو ہمیں سبق حاصل کرنا چاہے کہ ہر جگہ اور ہرچیز کی ویڈیو بنانا ضروری نہیں ہوتا۔
دولہا، دلہن کی بے ہودگی کو نظر انداز کربھی دیں تو اور بہت ساری چیزیں جو ہمارے گھرانوں کی شادیوں میں رائج ہوتی جارہی ہیں وہ بے جا خرچے اوربے ہودگیاں ،مہندی،مایوں کےنام پر نظر آتی ہیں،جوان لڑکے لڑکیوں کا ایک ساتھ ڈانس کرنا ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہو کر تصاویر اور ویڈیوز بنوانا آخر ہم اندھی تقلید کے پیچھے اپنی اسلامی روایات کو کیوں بھلا بیٹھے ہیں ۔
ہمارے عظیم لیڈرقائد اعظم نے دو قومی نظریہ پیش ہی اس بنیاد پر کیا تھا کہ ہمارا رہن سہن ،ہمارا مذہب ہماری روایات ہندؤں سے الگ تھیں اور ہم ہندوستان میں رہ کر ان روایات کو آسانی سےنہیں اپنا سکتے تھے،مگر آزاد وطن میں رہ کرہم آج ہندوانہ رسوم ورواج بڑے فخرسے اپنا رہےہیں ہمارے مذہب میں تو کہیں مہندی مایوں کرنےکا حکم نہیں آیا،مگر ہم لاکھوں روپے ان بے ہودگیوں پر لگا کر خوش ہوتے ہیں۔نکاح سادگی سے کر کے ہم وہی پیسہ کسی غریب کی بچی کی شادی پر بھی لگا سکتے ہیں اور اس کی زندگی بھی گلزار بنا سکتے ہیں جس سے ہمارا اللہ بھی راضی ہو گا اور أخرت بھی سنور جائے گی ۔زنگی کا اطیمنان اور سکون بھی ان رسومات ست بچنے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی میں ہے ۔





































