
نزہت ریاض
امی میرے اسکول کےشوزچھوٹے ہوگئے ہیں میرے پیر میں کاٹ رہےہیں جس کی وجہ سےمیرے پیر کےانگوٹھے میں چھالا ہو گیا ہے۔ نو سالہ نور
نےاسکول جانے کے لیے تیارہوتے ہوئےاپنی امی کو بتایا۔۔۔۔۔
ارے بیٹا تم نے مجھےبتایا کیوں نہیں دکھاؤ کہاں ہے چھالا میں دوائی لگا دوں امی نے نور کے دوائی لگا کرپٹی باندھی اوراسے اسکول روانہ کیا ۔ ان کے نور سے چھوٹے دو بچے اور تھےسات سال کا حمزہ اور پانچ سال کی حمنا ۔ دونوں کی اسکول جانےکی عمر تھی مگر مہنگائی کے مارے ان کے شوہرابھی تک دونوں بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں کرواسکے تھے۔ صرف نور ہی اسکول جاتی تھی بلکہ اس کو بھی آئے دن کوئی نہ کوئی خرچہ یاد آہی جاتا، جیسے آج جوتا چھوٹا ہونے کی وجہ سے روہانسی ہورہی تھی۔ اسےپتہ تھا کہ گھر کے حالات کیسے ہیں وہ ہرممکن کوشش کرتی تھی کہ امی کوبلاوجہ کا کوئی خرچہ بتا کرپریشان نہ کرےنوسال کی عمر میں ہی ماشاء اللہ وہ بہت سمجھدار بچی تھی ۔
نور کو اسکول بھیجنے کے بعد بھی اس کی امی گھرکے کام نمٹاتے ہوئے یہی سوچتی رہیں کہ میری بچی کے پیرمیں کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی ۔ مہینے کا آخر ہے۔نور کے ابو کی تنخواہ آنے میں بھی گیارہ دن باقی ہیں ،گھر کےخرچے کے پیسوں میں سے نور کے شوزلے آؤں تو باقی گیارہ دن کیا کروں گی ۔
نورکےابو ایک پرائویٹ کمپنی میں نوکری کرتےتھے کیونکہ سرکاری نوکری خریدنےکیلئے پاکستان میں بولیاں لگائں جاتی ہیں رشوتیں دیں جاتیں ہیں سفارش درکار ہوتی ہے اور جس غریب کے پاس یہ چیزیں میسرنہیں توان کی قابلیت اور ڈگریاں کسی کام کی نہیں ۔ نور کے ابو شام کو گھر آئے تو ان کو چائے وغیرہ دینے کے بعد نور کی امی نے ان سے نور کے شوز کا مسئلہ بتایا ۔وہ بھی سن کر پریشان ہو کر فوراً نور کو دیکھنے گئے ،جو دوسرے کمرے میں سو رہی تھی ۔واقعی اس کی پیرمیں اچھا خاصہ بڑا چھالا تھا۔ نور کے پیر تھام کر اس کے ابو کی أنکھوں میں بے اختیارآنسو آگئے۔کب سے میری بچی تکلیف اٹھا رہی ہوگی ۔اب کہیں جا کر بتایا ہے ۔
تم پریشان نہ میں کچھ بندوبست کرتا ہوں انہوں نے بیوی کو تسلی کرائی ۔دوسرے دن صبح آفس میں اکاؤنٹس سیکشن میں جا کرانہوں نے لون کی بات کی اور تھوڑی دیر بعد باس نےانہیں اپنے أفس میں بلایا اوران کی شکل دیکھتے ہی کرخت آواز میں بولا شکیل صاحب مہینہ ختم نہیں ہوتا اورأپ کی لون کی عرضیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں آپ کا مسئلہ کیا ہے۔آخر اسی طرح کافی دیر تک وہ انہیں باتیں سناتا رہا۔شکیل صاحب کی نظروں میں نور کا چھالے زدہ پیر گھوم رہا تھا کافی دیر باتیں سننے کے بعد بلآخر ان کا ضبط جواب دے گیا اور وہ چلا کربولے بس کردیں سر آپ نے مجھ سے نہیں پوچھا میرا مسئلہ کیا ہے۔میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ میں آزادی کے نام پربننے والے ملک پاکستان میں رہتا ہوں۔ میرے والدین مجھے قائد اعظم اور دوسرے رہنماؤں کی جدوجہد مسلسل کی کہانیاں سنایا کرتے تھے۔وہ مجھے ان لوگوں جیسا ایمانداراور با ضمیر بنانا چاہتے تھے۔ میرے والد سرکاری ملازم تھے اورالحمدللہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی رشوت نہیں لی تھی ۔رزق حلال سے ہمیں پالا پوسا اور میں نے بھی وہی شعار اپنایا،مگر میرے والد نہیں جانتےتھے کہ وہ ہمیں ایسی تربیت دےکرہمارے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔ آج کا پاکستان ایمانداروں کا نہیں چورلٹیروں کرپٹ سیاستدانوں اور ایسے قوم کے ناسوروں کا ہے جو دیمک بن کر پاکستان کو کھا رہے ہیں ۔یہاں لاکھوں میں تنخواہ پانے والے سرکاری ملازم کی شاہانہ گاڑی کاپٹرول مفت ہے۔ یہاں غریب اپنے بچے کا علاج کرانے کے لیےدھکے کھا رہا ہے اور وزیرمشیر،ججزسرکاری خرچے پر لندن اور امریکہ سے علاج کرارہے ہیں ۔غریب اپنے بچے کو تعلیم نہیں دلا پارہا، مگر میرے وطن کے حکمرانوں کی اولادیں کانونئٹ ،کیمرج اسکولز میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ یہ میرے قائداعظم کا پاکستان نہیں ہے۔علامہ اقبال نے ایسے پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا،مگر أپ بے فکر ہو کر مجھے دس باتیں اورسنا لیں میں دلبرداشتہ ہو کر نہ تو خود کشی کروں گا اور نہ اپنے پیارے وطن سے محبت کرنا چھوڑوں گا کیونکہ یہ میرے قائد اعظم کا وطن ہے۔ 14 اگست أنے والا ہے میں ہمیشہ کی طرح جھنڈا اپنے گھر کی چھت پر لہراؤں گا۔میں اپنے بچوں کو ہر سال کی طرح قائد اعظم کےمزار پر لےکر جاؤں گا ۔کوئی بات نہیں اگر آج ہمارے اندر کچھ کالی بھیڑیں ہیں ہم اپنے بچوں کو اپنے عظیم رہنماؤں جیسا بنائیں گے۔
انشاء اللہ ۔۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد اور باس آنکھیں پھاڑے اس غریب مگر پر عزم انسان کو دیکھ رہا تھا اور اس کے سامنے اپنےآپ کو بہت ہی غریب محسوس کر رہا تھا۔





































