
نزہت ریاض
پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کردل خون کےآنسورو رہا ہے۔سوشل میڈیا پرجو تصاویر وڈیوزشئیرکی جا
رہی ہیں ،یقین کریں وہ ویڈیو پوری نہیں دیکھی جاتیں اور کانپتے ہاتھوں سےوہ وڈیوزہٹا دیتی ہوں۔دل میں باربارایک ہی خیال آتا ہےکہ اللہ ہم سےناراض ہےاورہم پریہ بہت مشکل وقت ہے۔ یہ اللہ سے توبہ استغفار کرکےمعافی مانگنےکا وقت ہے،وہیں پر دل حکمرانوں کی بےحسی پر بھی کڑھ رہا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ اتنے بے حس کیوں ہیں آخران کا دل میں عوام کی تکلیف پرتڑپتا کیوں نہیں۔۔۔۔ کیوں ان کے دل نہیں ڈرتے کہ اللہ کے ہاں ان سے پوچھا جائےگا کہ جب تمہارے پاس اقتدار تھا ،اختیارتھا تو کیوں تم نے اپنی قوم کے لیےکچھ نہیں کیا ؟
جو سیاستدان اقتدارمیں نہیں ہیں وہ بھی اپنی اپنی باریوں پراپنی سات نسلوں تک کے لیے اسی پاکستان سے کما چکےہیں، اگر ایک باریہ مان بھی لیا جائےکہ قومی خزانے میں کچھ نہیں ہےتو بے شرموں پاکستان کے ناسورو تمہارے تو ذاتی ملکی اورغیر ملکی اکاؤنٹس میں اتنی دولت ہے کہ تم آرام سے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے غریب لاچارسیلاب زدگان کو کو مشکل سےنکال سکتے ہو۔
اس سے زیادہ مشکل اورپریشانی کیا ہوگی ۔آج سارا دن پانچ بھائیوں کی وڈیووائرل ہوتی رہی جوسیلابی ریلےمیں گھرے کھڑےتھے،کیا یہ پاکستان کےحکمرانوں ان کو بچانےکیلئےایک ہیلی کاپٹرکا بندوبست نہیں کرسکتے تھے ؟ وہی ہیلی کاپٹر جو یہ اپنے ذاتی استعمال کےلیے ایک رکشےکی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بلآخر وہ بھائی سیلابی ریلےکی نذرہوگئے۔کیا روزقیامت ان کا ہاتھ اور تمہاراگریبان نہیں ہوگا ؟ کیا تمہیں مرکر اللہ کا سامنا نہیں کرنا ؟ کیوں اخر تمہیں خوف خدا نہیں رہا ؟ ۔
اب آئیے سندھ گونمنٹ کی جانب سندھ سرکارایک طرف تواتنی ہمدردی اوردردمندی دکھاتی ہےکہ الیکشن بار بارملتوی کیےجارہے ہیں کہ بیچارےعوام ووٹ ڈالنے نہیں نکل پائیں گے۔دوسری جانب ان کی اپنی پارٹیاں عروج پرہیں ۔
شرمیلا فاروقی کومیں صاحبہ نہیں لکھوں گی کیونکہ عزت دینے کودل ہی نہیں چاہ رہا)جن کی اپنی دوستوں کے ساتھ پارٹی کی وڈیو وائرل ہورہی ہےکیوں ان لوگوں کےقول و فعل میں اتنا تضاد ہے کہ یہ سب اس وقت مل کرسیلاب زدگان کی داد رسی کے لیے کھڑے نہیں ہورہے ؟
"اگردریائےفرات کےکنارے ایک کتا بھی بھوکا مرگیا تو میں اللہ کےسامنے کیا منہ دکھاؤں گا"
یہ الفاظ تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جوانہوں نےاپنے دورخلافت کے دوران کہے ۔آج کے حکمران اس مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں پارٹیاں منا رہے ہیں۔۔۔۔۔ ڈرواس وقت سےجب ایسا ہی کوئی وقت تم پر یا تمہارے عزیزاوررشتےداروں یا تمہارے بچوں پرآئے۔ شاید تب ہی تمہیں غریب کےدکھ کا احساس ہو ۔
اپنی سیاست چمکانے کےلیےابھی نہیں پھر کبھی کوشش کرلینا۔ خدارا اس وقت متحد ہو کر ارض پاک کے لیےکچھ کرلو تمہیں اس وقت ہیرو بننے کا موقع ملا ہے۔یہ تو وہ عوام ہیں کہ اگر تم ان کے لۓ تھوڑا بھی کروگے تو یہ تمہیں اپنےسر آنکھوں پربٹھائیں گے ۔ اب یہ تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے ہیرو بننا چاہتے ہو یا زیرو۔





































