
نگہت فرمان
افف میں کیا کروں ؟وہ دونوں ہاتھوں سےاپنا سرپکڑ کربیٹھ گیا ۔۔کیسا امتحان ہے یہ ۔ایک طرف گھر کا سکون دوسری طرف میراعکس ۔۔میں کیسے بھول
سکتا ہوں وہ دن جب ہماری اچھی بھلی خوش باش زندگی غموں کی آماج گاہ بن گئی۔ سر پر سے دست شفقت کیااٹھا اپنوں نے بھی سایہ کرنے سے انکار کردیا کیسے بھول سکتا ہوں جب گھر سے باہر ماں بابا کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ ہمیشہ کی طرح آئیں گے تو میرے لیے جوس اور کینڈیز لائیں گے۔ میں جب بھی وہ مجھے چھوڑ کر دونوں جاتے ہمیشہ روٹھتا تھا اور وہ ہمیشہ کوئی کھلونا کوئی کھانے کی چیز دے کر منالیتے۔ اس دن بھی اسی انتظار میں تھا وہ تو نہیں آئے البتہ خوف ناک سائرن بجاتی ایک ایمبولینس میں سے سفید کپڑے میں لپٹے بے جان لاشہ ماں بابا کے آگئے تھے۔
میری زرا سی رونے کی آواز سن کر بھاگ کر آجانے والے میرے چیخنے پر بھی نہیں اٹھے تھے ۔۔نہیں بھلاپاتا میں پھر یوں ہوا ایک ایک کرکے میں سب کو بوجھ لگنے لگا چاچا ۔چاچی تایا تائی میں اتنے رشتوں کے ہوتے بھی تنہا ہوتا گیا۔ کوئی میرا دکھ نہ سمجھ سکتا تھا ،نہ بانٹ سکتا تھا ،مجھے آنے جانے والے قابل رحم نظروں سے دیکھتے اور گھروالوں کی نظریں تو مجھے کھلتی تھیں۔ میں آج تک نہیں سمجھ پایا کہ ایک بچے کو اس کے سگے رشتے بھی کیسے بوجھ سمجھنے لگتے ہیں ؟ یتیمی زمانے بھر کے دکھ ساتھ لاتی ہے کی عملی تصویر بن گیا تھا میں ۔۔میری قسمت کہ میری ماں اکلوتی اولاد تھیں اور نانا نانی ماما سے پہلے ہی دنیا سے جاچکے تھے ۔۔خیر پھر یوں ہوا میری ماما کی کزن جن سے ان کی دوستی بے انتہا تھی دونوں کی چاہت کا چرچا بھی رہتا تھا وہ مجھ سے ماما کے جانے کے بعد ماہ دو ماہ میں ملنے ضرور آتی تھیں ۔انہین میری حالت کا بہ خوبی اندازہ ہورہا تھا وہ میرے لیے کھلونے بھی لاتیں اور کھانے پینے کی چیزیں بھی بالکل میری ماما کی طرح لیکن ان کے جاتے ہی یہ سب چیزیں میرے کزنز میں بت جاتیں مجھے بھی کچھ معمولی حصہ مل جاتا تھا ایک دن آنٹی مجھے گھر والوں کی رضامندی سے اپنے ساتھ لےگئیں میرا اسکول جو ماما با کے جانے کے بعد بدلوادیا گیا اور محلے کے اسکول میں داخل کروادیا تھا آنٹی نے مجھے پھر وہیں ایڈمیشن دلوادیا ۔میرے لیے علیحدہ کمرہ تھا ویسے ہی جیسےماما بابا نےسجایا تھا میری ضرورت کا ہر خیال رکھتیں تھیں میں حیران تھا کہ کوئی سگے رشتوں سے بڑھ کربھی اتنا اچھا کیسے ہوسکتا ہے ؟ آنٹی کے بچے نہیں تھے اور انکل کی اپنی ہی زندگی تھی میرا بچپن لوٹ آیا تھا میں آنٹی کے سایے میں خود کو محفوظ سمجھنے لگا مجھے لگا, میری ماما واپس آگئیں ہیں وہ بھی بہت خوش ہوتیں میری ہر کامیابی کو سلیبیریٹ کرتیں اور اس سیلیبریشن میں کبھی کوئی اور نہیں ہوتا بس ہم دونوں ہوتے ۔
ہاں البتہ آنٹی ہر کامیابی پر صدقہ دینا نہیں بھولتیں خود بڑے اہتمام سے بڑے پتیلے میں کھانا بناتیں اوریتیم خانے پہنچا کرآتیں۔میں حیران ہوتا تھا کہ آنٹی ہر موقع پر بس وہیں کیوں جاتی ہیں۔ اتنے سارے اور ضرورت مند بھی تو ہیں لیکن یہ سوال کرنے کی ہمت کبھی نہ ہوئی ۔۔
دن گزرے ماہ گزرے سال گزر گئے۔میں انجینیر بن گیا آنٹی کی ضد کہ شادی کرلولیکن میں ابھی اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔ آنٹی سے ہنس کر ٹال جاتا کہ ابھی ہم دونوں انجوائے کرلیں چھوڑیں لیکن کب تک بھاگتا ؟ ایک دن میں نے آنٹی سے دل کی بات کہہ ہی دی کہ شادی سے کیا ہوگا ؟ آپ نے انکل کے ہوتے ہوئے بھی پوری زندگی تنہا ہی گزاری ہے ،میں گواہ ہوں آپ کے شب و روز کا ۔میں نے اتنے عرصہ میں کبھی آپ کو انکل کے ساتھ ہنستے بولتے آتے جاتے نہیں دیکھا۔ ہاں اپنے فرائض نبھاتے دیکھا ہے ۔نہ انکل کو کبھی آپ پر غصہ کرتے بات چیت کرتے پایا ۔۔۔کیسا تعلق ہے آپ دونوں کا ؟ آنٹی نے بس اتنا کہا وقت خود بہت سے سوالات کے جواب دے دیتا ہے لیکن ضروری نہیں ہر شادی کا انجام ایسا ہی ہو ۔۔
تم خود کرو گے لڑکی پسند یا میں کروں ؟ میں نےان سے کچھ وقت مانگا۔ اس وعدے کے ساتھ کہ جلدی بتاؤں گااب اس نظریہ سےاپنی کولیگزمیں دیکھوں گا ،نہیں سمجھ آئی تو آپ تلاش کیے گا ۔وقت دبے پاؤں گزرا پھر ایک دن انکل کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع ملی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل انکل زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے ،ان سے ملنے یتیم خانے کے ذمہ داران بھی آئے اور کوئی دوسری خاتون و دو میرے ہم عمر لڑکے بھی۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ انکل نے دوسری شادی کی ہوئی تھی جن سے ان کی اولاد بھی تھی ایک دن اس وارڈ میں گزار کر انکل دائمی دنیا میں لوٹ گئے۔ اس وقت بھی آنٹی کو میں نے صبر کرتے ہی پایا ۔انہیں کچھ سمجھانا ہی نہیں پڑا ۔۔
آنٹی سے مانگا کچھ وقت تھوڑا طویل ہوگیا، ماہ سال میں بدل گئے۔ آنٹی بالکل خاموش ہوگئیں تھیں۔ انکل کے استعمال کا سارا سامان یتیم خانے چلاگیا اور آنٹی کے بھی یتیم خانے کے چکر بڑھ گئے ۔ماہا میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی تو جو مجھے بحیثیت شریک حیات پسند آئی ۔میں نے آنٹی سے تذکرہ کیا ۔آنٹی اس کی فیملی سے ملیں اور باآسانی ہمارے معاملات طے پاگئے ۔سادگی سے شادی ہوئی اور ماہا دلہن بن کر گھر آگئی ۔آنٹی نے کبھی ہمیں روکا ٹوکا نہیں ہم۔جہاں چاہتے جاتے گھومتے پھرتے مجھے اکثر شرمندگی بھی ہوتی کہ کبھی آنٹی کو میں کہتا بھی تو وہ ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں ہوتیں لیکن میرے صرف پوچھنے پر ہی ماہا کا رد عمل ایسا ہوتا کہ اگر آنٹی کا دل چاہتا بھی تو وہ نہ جاتیں۔ وہ انتہائی نرم و حساس دل کی مالک اور ماہا میں جب بھی ان دو خواتین کا مقابلہ کرتا میرا پلڑا آنٹی کی طرف جھکتامجھے آنٹی میں کوئی عیب نہ دکھتا تھا ،جب کہ ماہا کو ان میں وہ عیب دکھائی دیتے جو سرے سے تھے ہی نہیں ۔مجھے حیرت ہوتی کہ اسے آنٹی کا وجود کیوں بوجھ لگتا جب کہ وہ اپنے سارے کام بھی خود کرتیں ۔۔پھر ایک دن ماہا نے وہ کہہ دیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی ہمارے گھر میں پھول کھلنے والا تھا ۔آنٹی یہ خبر سن کر کتنا خوش تھیں لیکن ماہا اس نے تو آنٹی کو صحیح سے خوش ہونے بھی نہیں دیا۔ اس نے شرط رکھ دی کہ اگرمجھے ساتھ رکھنا ہے تو الگ گھر لو اب میرے پاس اتنے وسائل کہاں کہ الگ رہوں ،نہ اتنا بے حس کہ جب مجھے ضرورت تھی آنٹی نے مجھے سب کچھ دیا ،اب اس عمر میں انہیں اکیلا کیسے کردوں ۔رات کے پہلے پہر سے سر ہاتھوں میں تھامے اسی سوچ میں ہوں اففف کیا کروں ۔۔ گھڑی دیکھی تو پچھلا پپہر شروع ہوچکا تھا دروازے پر معمولی دستک کے ساتھ آنٹی داخل ہوئیں آپ اس وقت ۔۔میرا بیٹا ساری رات بے چین و پریشان ہو اور میں سکون سے سوجاؤں ایسا کیسے ممکن ہے ۔۔؟
مجھے اس لمحے بہت رونا آیا لیکن ضبط کر گیا کہ تقاضا تھا ۔بیٹا مجھے تم سےبات کرنا ہے ضروری جی جی بولیے وہ کرسی پر بیٹھ گئیں اور میں ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھ گیا تم ہمیشہ مجھ سےپوچھتے تھے انکل اور میرے تعلق کا ۔اور میں نے ہمیشہ کہا وقت پر سب معلوم ہو جائے گا تو مجھے لگتا ہے وقت آگیاہے تمہیں بتانے کا ۔
مین اور تمہارےانکل ہم دونوں ہی اسی یتیم خانےمیں پلے بڑھےاورہم دونوں کی شادی بھی اسی یتیم خانے کے مشفق سربراہ نے کرائی تھی۔ان کی بات سے انکار کا حوصلہ ہم میں نہیں تھا ۔انکل کو میں کبھی پسند نہیں رہی ۔انہوں نے یہ بات شادی سے پہلے ہی بتادی تھی اور ہم دونوں نے ہی آپس میں معاہدہ کرلیا تھا کہ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھیں گے لیکن زندگی میں مداخلت نہیں کریں گے ۔جیسے تم نے دیکھا نہ انہوں نے مجھے کبھی روکا ٹوکا نہ میں نے۔ہمارے درمیان کبھی ایسا تعلق نہیں رہا انہوں نے مجھے بتا کر دوسری شادی کرلی کہ انہیں ضرورت تھی اور مجھ سے بھی کہا تھا کہ کہو تو طلاق دے دوں ۔اگر کسی دوسرے مرد کے ساتھ رہنا چاہو لیکن میں نے اپنی قسمت سے سمجھوتا کرلیا ۔وہ یتیم خانہ آج بھی مجھے بہت عزیز ہے اور میں اب واپس وہاں جانا چاہتی ہوں وہاں بہت سے بچے ہیں جنہیں محبت و توجہ درکار ہے ،سو تمہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے آئی تھی ۔آنٹی ۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں نے انہیں حیرت سے دیکھتے ہوئے مشکل سے یہ الفاظ ادا کیے۔ بیٹا میں تمہیں ایک مکمل و کامیاب انسان دیکھنا چاہتی ہوں۔ دوراہے پر کھڑا فرد کامیاب نہیں ہوسکتا ۔۔تمہارے لیے اب تمہاری فیملی ہے کل کو ان شاء اللہ تمہارے بچے ہوں گے یہ گھر انکل کا ہے جو انہوں نے مجھے دیا ،میں نے یہ تمہارے نام کردیا ہے،اس کی فائل کل تمہیں مل جائے گی اور میں جو آنسو ضبط کیے بیٹھا تھا۔ بے تحاشہ رونے لگا کہ کس مٹی کی بنی عورت ہیں ،یہ اتنی خوب صورتی سے مجھے مزید مقروض کرکے میری زندگی سہل بنا رہی ہیں اور ہاں بس آخری بات کبھی اپنی بیوی کا موازنہ کسی بھی دوسری عورت سے نہیں کرنا، ہمیشہ اس کی اچھائیوں کو دیکھنا محبت سے سمجھانا پھر جس طرح چاہو اسے اپنے رنگ میں رنگ دینا ۔جب دل چاہے مجھ سے ملنے آجانا تمہیں راستہ تو بہت اچھی طرح یاد ہے نا ۔۔میرے بالوں پر مشفق انگلیاں پھیرتے ہاتھ رکے ،دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ تھام کر پیار بھرا بوسہ ماتھے پر دیا اور کمرے سے چلی گئیں ۔۔میں بہت دیر تک وہیں بیٹھا سوچتا رہا ،نہ چاہتے ہوئے بھی موازنہ کرنے لگا عورت کا ایک یہ روپ سرتاپا قربانی و محبت اور دوسرا ۔۔۔۔اسے کوئی نام نہ دے سکا۔





































