
نگہت فرمان
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان اتنی تڑپ ولگن سے اللہ سےمانگے لیکن پھر بھی محروم رہتا ہے؟ شاید اس لیے کہ اللہ کو اس کا مانگنا ہی مطلوب ہو ۔اسے
اپنے اس بندے کی مانگنے کی ادا ہی اتنی پیاری لگتی ہو کہ وہ یہ چاہتا ہو کہ بس میرے سامنے یہ کبھی ہاتھ اٹھائے ،کبھی ہاتھ جھکائے،کبھی آواز سے ،کبھی بے آواز ،کبھی روٹھ کر شکوؤں کے ساتھ اور کبھی شکر گزاری سے ہنس کر یہ کہتے ہوئے کہ چل میرے سوہنے رب تو جس پر راضی کہہ کر میرے در پر رہے ۔آج انیسہ آئی تو وہ نمناک آنکھوں سےکہنے لگی باجی میری نانی جان کے سامان میں سے دیکھو کیا کیا نکلا ؟ جانے کہاں کہاں سے انہوں نے بس بیت اللہ اور مسجد نبوی کی تصاویر جمع کر رکھی تھیں ۔انہیں ایسی تڑپ ایسی لگن تھی لیکن ہم نے کبھی ان کے منہ سے کوئی شکوہ شکایت نہیں سنی۔ یہ کہہ کر وہ پھر رونے لگی اور میں خاموشی سے اسےدیکھے گئی۔ میرے پاس تسلی کے لیے الفاظ بھی نہیں تھے ۔ وہ پھر بولی باجی میں نے حج کے موقع پر انہیں تڑپتے دیکھا ہے ۔کبھی انہوں نے اپنے لیےکچھ نہیں مانگا بس ان کا سب سے بڑا خواب تھا کہ وہ اللہ کےگھر کی زیارت کرسکیں۔
ہر سال حج کے قریب آتے ہی، وہ اشتیاق اور حسرت سےبیت اللہ کی تصاویردیکھتیں،حاجیوں کی روانگی کےمناظر ٹی وی پر دیکھ کر دعا کرتیں۔ اپنی تھوڑی تھوڑی جمع پونجی الگ رکھتیں اور دعا کرتیں کہ اللہ انہیں اس مبارک سفر کے قابل بنا دے لیکن ہر سال ہی زیارت سے محروم رہتیں ۔
باجی آپ کو پتا ہے نانی اماں کا انتقال حج والے ماہ میں ہوا ۔مجھے یاد ہے وہ رات جب ہر طرف سناٹا تھا،چاندنی ہر چیز کو دھیمے نور میں نہلا رہی تھی۔ اور وہ چھت پر مصلے پر بیٹھیں آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھیں اور وہ چپکے چپکے سوہنے رب سے باتیں کررہی تھیں۔ ان کا دل تو ہمیشہ سے ہی ایسا تھا وہ کبھی کسی کی برائی نہیں کرتیں صدقہ دیتیں۔ اس نیت سے کہ میرا سوہنا رب راضی ہوگا تو اپنے در پر بلائے گا لیکن باجی میری نانی اماں نہیں جاسکیں ۔میں بھی ان کے لیے کچھ نہیں کرسکی ۔وہ زارو قطار پھر رونے لگی ۔۔میں جو خود بہت دیر سے اس کی اشک پوشی کے لیے الفاظ جمع کررہی تھی گویا ہوئی ۔۔دیکھو انیسہ کتنے لوگ ہیں جو در پر پہنچ کر بھی محروم رہتے ہیں اور کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں صرف تڑپ و لگن سے رب کا وہ قرب وہ محبت عطا ہوجاتا ہے جو عبادات کی روح کا خاصہ ہے ۔کیا مطلب باجی ؟ مطلب یہ کہ جو اتنے لوگ مستقل اللہ کے گھر کی زیارت کو جاتے ہیں ۔کیا تمہیں ان کے اندر وہ تبدیلی وہ صفات نظر آتی ہیں جو رب کو مطلوب ہیں ؟ عاجزی ،انکساری ،اخلاق معاملات میں شفافیت حلال حرام میں تمیز، اگر بندہ رب کے در پر پہنچ کر بھی ان سب سے محروم ہے تو اس کی عبادات تو بےروح ہوئی ناں اورتمہاری نانی تو عبادت کی روح سے جڑی ہوئی تھیں پورا محلہ گواہی دیتا ہے ۔بس یہ ہے اصل کامیابی ۔کچھ حاضر ہو کر بھی محروم رہتے ہیں اور کچھ غائب رہ کر بھی سراغ پاجاتے ہیں ۔اللہ کے گھر پہنچ جانا باعث سعادت ضرور ہے لیکن، اللہ کے گھر سے بدل کر آجانا باعث مبرور ۔





































