
نگہت فرمان
راحت محل کی روشنیاں دور سے جگمگاتی تھیں، جیسے چمکتے ہوئےستارے زمین پر بکھر گئے ہوں۔ یہ اوسط مکانوں کے درمیان ایک وسیع و
عریض خوب صورت محل نما مکان تھا،جو اپنی شان و شوکت کےساتھ اس علاقے کےسب سے رئیس ہونے کی علامت تھا۔کشادہ سیڑھیاں، سنگ مرمر کی دیواریں، اور دروازوں پر سنہری کندہ کاری، سر سبز لان ، سب کچھ دیکھنے والے پر رعب ڈال دیتا تھا۔ اس مکان کے مالک مشہور صنعتکار ظہیر اور ان کی بیگم شائستہ، بس دو ہی افراد اس وسیع محل کے اصل مکین تھے ،باقی چار پانچ نوکر باہر بنے کوارٹر میں رہائش پذیر تھے ۔ مال و دولت کی فراوانی تھی اور ہر روز کسی نہ کسی دعوت کی تیاری چلتی رہتی تھی۔مختلف قسم کی اشتہا انگیز خوشبوئیں نوکروں کے کوارٹر تک پہنچ کر بچوں کا شوق بڑھاتیں کہ وہ بھی اس لذت کو محسوس کریں لیکن ایسا ہو نہیں پاتا ۔
۔بیگم شائستہ کی کھانے کی میز پر ہمیشہ انواع و اقسام کے پکوان سجے رہتے۔ ہر دن کوئی نہ کوئی خاص ڈش تیار کی جاتی، مہمان آتے، کھاتے اور بچا ہوا کھانا کچرے میں ڈال دیا جاتا۔
بیگم صاحبہ کا خیال تھا کہ کھانے کی بچی چیزیں کبھی نوکروں کو نہ دی جائیں کیونکہ اس سےان کی ہوس و بھوک بڑھتی ہے ۔ اس لیے تمام بچا کھچا کھانا پھینک دیا جاتا چاہے ان نوکروں کے بچے حسرت بھری نگاہوں سے اس انواع و اقسام کے کھانوں کو دیکھ رہے ہوتے کہ انہیں ان کا ذائقہ ملنا نصیب ہو ۔
اس مکان سےدو گلیاں چھوڑ کرروشنیوں کی جگہ اندھیرےنےلےرکھی تھی۔تنگ وتاریک گلی میں چھوٹے چھوٹےجھونپڑے تھے۔ ان میں سے ایک جھونپڑی میں نوراں اور اس کے بچے رہتے تھے ۔اس کامیاں کچھ دن قبل حادثے میں چل بسا تھا ۔کشادگی تو پہلے بھی نہیں تھی بس اتنا ضرور تھا مزدوری کے عوض ایک وقت کی پیٹ بھر کر روٹی بچوں کو نصیب ہوجاتی تھی ۔اب وہ سہارا بھی ختم ہوچکا تھا۔
نوراں دن بھر بس اسی کچرے کے ڈھیر سےاتناکھاناچن لیتی کہ بچوں کو رات کو بھوکا نہ سونا پڑے۔ بعض دن ایسے بھی آتے جب پانی کے گھونٹ ہی واحد سہارا ہوتے۔ بڑے بچے تو جیسے تیسے سوجاتے شاید اس بھوک کے عادی ہوگئے تھے مگر چھوٹا والا سارا وقت روتا رہتا ۔ ایک دن تپتی دوپہر میں جب سورج آگ برسا رہا تھا، نوراں کا چھوٹا سا گھر بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ بوسیدہ دیواروں پر جگہ جگہ دراڑیں تھیں، جیسے وہ بھی اندر رہنے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہوں۔
وہ اپنے بچوں کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ سب سے چھوٹا رو رو کر نڈھال ہو چکا تھا۔بڑی بہن نے اسے گود میں لے رکھا تھا مگر وہ بھی خود کمزور تھی، اس کی آنکھوں میں بھوک کی شدت سے دھندلاہٹ تھی۔نوراں کے بچے آس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ آج دوسرا دن تھا کچرے کے ڈھیر کے پاس کتوں کا غول نوراں کو کھانا چننے سے روک دیتا تھا ۔
اپنے بچوں کی یہ حالت نوراں سے دیکھی نہیں گئی اور وہ تپتے سورج میں اپنےکمزور جسم کے ساتھ اپنے بچوں کی بھوک کی ہاتھوں موت کے خوف سے خود کو گھسیٹتے ہوئے کوڑے کے ڈھیر سے زندگی چننے چل دی ۔گرمی کے زور کی وجہ سے دور دور تک سناٹا تھا یہ دیکھ کر اسے انجانی خوشی ہوئی اور تیز قدموں سے کچرے کے ڈھیر کے پاس پہنچی جلدی جلدی کچرا دیکھنے لگی کہ شاید کچھ مل جائے جس سے بچوں کی بھوک مٹ سکے لیکن اسے لگا اس کے پہنچنے سے پہلے ہی شاید محلے کے آوارہ کتے اپنی بھوک و پیاس مٹا چکے ۔وہ مایوس ہو کر ایک گھنے درخت کی چھاؤں میں بیٹھ گئی ۔۔سورج ڈھلنے کے قریب ہوا تو سڑک پر وہی چہل پہل شروع ہوگئی ۔لوگ جلدی جلدی اپنے کام سمیٹنے لگے کچھ دور اسے قمقمے نظر آئے، اس نے جا کر دیکھا تو راحت محل میں جگمگاتےقمقمے وہاں ہونے والی دعوت کا پتا دے رہے تھے۔ نوراں پر امید ہوکر وہیں بیٹھ گئی۔وہ مستقل آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ،اسے یقین تھا کہ دعوت کا بچا ہوا کھانا کچرے کے ڈھیر کے ساتھ ضرور آئے گا۔ شام کے سائے گہرے ہوگئے تھے۔ نوراں کی نظریں وہیں جمی ہوئی تھیں۔ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ہر طرف سنائی دینے لگیں لیکن ایسا لگ رہا تھا اس نے بھی تہیہ کرلیا تھا کہ کھانا لیے بغیرنہیں جائے گی ،دفعتاً اس کی آنکھیں چمک اٹھیں،وہاں سے نکلنے والے نوکر نے وہ تھیلا کچرے کے ڈھیر میں اچھالا اور پلک جھپکتے میں واپس گھر کی سمت چل دیا کہ اسے خاص ہدایت تھی رات کے اس پہر فوری دروازے بند کرنے کی۔ اس کے جاتے ہی نوراں لپک کر گئی وہ تھیلا اٹھایا ، جلدی جلدی کچرا الٹا اس میں بڑے بڑے گوشت کے ٹکڑے اور ہڈیاں ملیں مارے خوشی کے وہ انہیں اپنی دوپٹے میں جمع کرنے لگی۔آج تو کتوں کے بھونکنے پر بھی وہ خوف زدہ نہیں ہوئی بلکہ کچھ گوشت ہڈیاں ان کی جانب اچھال دیں۔ وہ اس پر لپک گئے اور نوراں خود جتنا جمع کرسکتی تھی کرکے تیز قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔ اس خوشی سے سرشار کہ آج تو بچوں کی دعوت ہو جائے گی اور ادھر دعوت سے فارغ ہوکر سنگھار میز کے سامنے اپنا میک اپ اتارتے ہوئے گھر کی مالکن شائستہ بیگم نہال تھیں کہ آج مزیدار دعوت کے بعد گلی کے کتوں کی آوازیں بھی آنا بند ہو جائیں گی کہ نوکر نے زہر ملا گوشت کچرے کے ڈھیر میں یقینی ڈال دیا ہوگا ۔۔انہیں اس بات کی خبر بھی نہیں تھی کہ کچرے کے ڈھیر سے صرف کتے ہی نہیں انسان بھی اپنی بھوک مٹانے کا سامان کرتے ہیں اور آج رات صرف آوارہ کتوں کو ہی نہیں بھوک سے کچھ نیم مردہ انسانوں کو بھی زندگی سے آزادی کا پروانہ مل جائے گا۔





































