
نگہت فرمان
غزوۂ بدراسلام اورکفرکاپہلا بڑا معرکہ تھاجو نہ صرف عسکری لحاظ سےبلکہ نظریاتی اورروحانی اعتبارسےبھی فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اس معرکے میں
مسلمان تعداد اور وسائل کے لحاظ سے انتہائی کمزورتھےمگر اللہ کی نصرت اورایمان کی طاقت نےانہیں ایک عظیم فتح عطا کی۔۔ یہ جنگ ایمان، صبر اور اللہ پر کامل بھروسے کی لازوال مثال ہے۔ اس کے متعلق جب بھی پڑھا ہمیشہ رشک آیا ۔ان کی داستان بس تاریخ کے سنہری اوراق لگے لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ غزوہ بدرکی ایک جھلک ہم اپنی آنکھوں سےبھی دیکھ لیں گے وقت کی سپرپاور سے ٹکرانے والے بے گناہ و تنہا اہل فلسطین پر کیا کیا ستم نہیں ڈھائے جارہے، دشمن ہی کیا اپنوں کے ستم بھی کم نہیں ۔
غزوہ بدرنےثابت کیا تھا کہ فتح تعداد یا ہتھیاروں سےنہیں بلکہ ایمان، اتحاد اوراللہ کی مدد سےحاصل ہوتی ہےاورآج اہل غزہ بھی اپنےمحاذوں پرڈٹے یہی پیغام دےرہے ہیں۔
دنیا نے دیکھا کہ اہل فلسطین پرہرطرح کےظلم ڈھائےگئے۔اسلامی ممالک تماشا دیکھتےرہے یا زبانی گولہ باری میں مصروف رہے لیکن اہل غزہ و فلسطین نےغزوہ بدر کی یاد دلادی ہے۔ دشمن قوی ہے،مادی وسائل نت نئے ہتھیاروں وحربوں کےساتھ نہتےشہریوں کو جارحیت کا شکاربناتا رہا لیکن یہ حقیقی اہل ایمان ڈٹے رہے اور بالآخر دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پڑے، ان کا غرور بھی خاک میں مل گیا۔ ٹیکنالوجی کے باوجود اپنے قیدی تلاش نہ کرنے کی ذلت الگ اٹھانا پڑی اوردنیا بھرمیں انسانیت کا درد رکھنےوالےاہل دل افرادخواہ ان کا تعلق کسی مذہب وزبان سے ہوان کی مخالفت کا الگ سامنا ہے ۔۔ حیرت وافسوس کی بات یہ ہےکہ ہم دیکھتے ہوئے بھی دیکھنےسےمحروم ہیں ۔ہم آج بھی ایسےباکرداروباہمت اللہ ہرکامل یقین رکھنےوالےدشمن کےسامنے سینہ سپرمیدان میں کھڑے سپاہیوں کےساتھ معجزے ہوتے دیکھ رہے ہیں پھر بھی ہماراایمان بڑھ نہیں رہا، اسماعیل ہنیہ ہوں ،یحیی سنوار یا ابو حمزہ کی شکل میں جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں کہ عملی تصاویرہمیں نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی ہمارے یقین کی کیفیت بڑھتی نہیں ۔عیش کوشی کو ہم نے اپنا شعار بنالیا وہن میں مبتلا ہو کرجہاد کا راستہ بھول بیٹھے ہیں۔
یہ تاریخی معرکات ہمیں سکھاتےہیں کہ فتح کا دارومدار تعداد اور وسائل پر نہیں بلکہ ایمان،استقامت اوراللہ کی مدد پر ہوتا ہے۔آج بھی اگرہم اسی جذبے اوریقین کے ساتھ آگےبڑھیں تودنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔
جس طرح 313 مسلمانوں نےمل کربڑے لشکرکوشکست دی،آج بھی اگرامت متحدہوجائےتوکوئی طاقت ہمیں مغلوب نہیں کرسکتی۔اس کے لیے ہمیں اپنی ذاتی اوراجتماعی زندگی میں قربانی،محنت اورجہدِ مسلسل کواپناناہوگا۔آج عین یوم بدروالےدن ایک بارپھروحشیوں نےاہل غزہ پریلغار کردی اورہم سب بے بسی سے یہ سب مناظر دیکھ رہے ہیں کب تک یہ ظلم ہوتا رہے گا اور ہم دیکھتے رہیں گے ؟ ہم تو اپنے حصے کا کردار بھی ادا نہیں کررہے ہمیں تو کھانے کی لت ایسی لگی ہے کہ ہم کےایف سی،میک ڈونلڈ ،کیڈبری چاکلیٹس ونیوٹیلانہیں چھوڑسکتے۔ ہمارے کپڑوں کا اجلا پن کم ہورہاتھا توڈٹرجنٹ بھی ہمیں اسرائیلی برانڈ کاہی درکار ہے۔ بال جھڑنے لگے تھے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ ہم لوکل شیمپو پرہی انحصارکریں وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے پاس اپنے لیےہرعذر ہے۔ یہ مت بھولیں یہ عذر کام نہیں آئیں گےہمارےلیےجنگ کی ہئیت بدلی ہے،ہمارے اختیار میں یہی ہے۔ہمیں اپنےحصےکاجہاد تو کرنا ہی چاہیے۔ دنیا کے کئی ممالک سےخبریں آئیں مختلف کھانے پینے کی اسرائیلی برانڈز کی چین بند ہونے کی۔ ہمارے ہاں شکم سیرہو کرکھا نے والے دماغ سےسوچنے کے عادی کہاں رہے ۔
کبھی سوچا ہے کہ یہ اہل فلسطین جوہماراقرض اتار رہےہیں،اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا کرہزاروں شہداء لاکھوں زخمیوں بےگھروسہولیات سے محروم افراد اس حالت میں بھی ایمان پرقائم ہیں ،سودا نہیں کیایہ بھی اگرنہ رہے تو دین غالب کیسےآئےگا؟اہل غزہ تاریخ میں قربانی وعزیمت کاروشن باب بن چکے ہیں اورہم ؟ہم اندھیروں اورغفلت میں ڈوبےہوئےہیں کیا ہمارے اندراتنا بھی ایمان ہےکہ ہم دشمن کے آگے ڈٹ سکیں ؟ خدارا اپنےایمان کی کیفیت کا جائزہ لیں،اسے بچانے کی فکرکریں۔ ان کی زندگیوں سے روشنی حاصل کریں ان چراغوں سےاپنے گھروں اور دلوں کو روشن کریں حمیت جگائیں ۔دنیا کی محبت واس کے حصول کی خواہش سے باہرآئیں کہ یہی معرکہ بدر کا پیغام ہے ۔





































