
نگہت فرمان
چیخ ابھری اور لمحوں میں سناٹا چھا گیا۔دو گھرانےغم میں ڈوب گئے۔ایک اورخاندان بےرحم نظام کی نذر ہوگیا۔ ایک ٹینکر کی بے قابو رفتار نے ایک
معصوم بچے کی پہلی سانس بھی چھین لی اور اس کےماں باپ کو بھی موت کی نیند سلادیا۔ ماں کی بانہیں جوابھی لوری گانےکوبےتاب تھیں، پتھرائی آنکھوں سے خلا میں تک رہی تھیں, باپ کی انگلی جسے ننھے ہاتھ نے ابھی تھاما بھی نہ تھا وہ اب خون میں ڈوبی کسی اور دنیا کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔یہ صرف حادثہ نہیں تھا،یہ ایک نظام کی ناکامی کی وہ چیخ ہے جو حکمرانوں کے سنگ دل کانوں تک نہیں پہنچتی۔ وہ جو ایوانوں میں عیش و عشرت کے مزے لے رہے ہیں۔انہیں عوام کیڑے مکوڑے لگتے ہیں انسان نہیں ۔
یہ خون صرف ایک ٹینکر ڈرائیور کےہاتھوں پر نہیں،یہ اس بدعنوان نظام کےہاتھوں پرہےجس نےسڑکوں کوموت کا کنواں بنادیا ہےجہاں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کوئی روکنے والا نہیں اور کوئی جواب دینے والا نہیں۔یہ حادثہ نہیں،قتل ہے! اور اس قتل کے مجرم وہ سب ہیں جو اپنی کرسیوں سے چمٹے بس تماشا دیکھ رہے ہیں۔ مگر کون روئے؟ یہاں آنکھیں پتھر ہو چکی ہیں۔ یہاں دل بے حس ہو چکے ہیں۔ہر روز ایک نیا حادثہ، نیا سانحہ ہمارا نصیب بن چکا ہے۔ یہاں خون کی سرخی بھی اخبار میں ایک عام سرخی بن چکی ہے۔ یہاں انسانوں کی موت صرف ایک "واقعہ" ہےاور حکمرانوں کے لیے محض ایک "خبر"۔کچھ دن تک خبر گرم رہے گی ،بیانات چلیں گے احتجاج ہوگا اور پھر کوئی اور سانحہ اپنی جانب رخ موڑ لے گا ۔برسوں سے ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں سہہ رہے ہیں ۔عادی ہوگئے ہیں کیوں کہ یہاں ٹینکر نہیں، نظام قاتل ہے! یہاں بے حسی کے دیو ہیں جو کچل دیتے ہیں، روند دیتے ہیں ۔ہم ہر بار مجرموں کو سزا دلوانے کی بات کرتے ہیں اور ہمیشہ ہی وہ مجرم ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہ ہو۔۔مگر کب تک ؟ کبھی تو حساب کا وقت بھی آئے گا ۔
جو فرعون بنے کرسی سے چمٹے ہیں یاد رکھیں
خون یونہی مٹی میں جذب نہیں ہوتا
یہ چیختا ہے، پکارے گا، سوال کرے گا
اور جب حساب کا دن آئے گا،تو صرف مجرم ہی سزاوار نہیں ٹھہرے گا ہرخاموش تماشائی بھی اس کا ذمہ دار ہوگا۔
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































