
نگہت فرمان
"میں نے جب پہلی بار تمہیں اپنی بانہوں میں لیا تھا،تولگا جیسےمیری دنیا مکمل ہوگئی ہو۔ تمہاری معصوم ہنسی، ننھےہاتھ اوروہ آنکھیں جن میں میرا
عکس تھا۔ سب کچھ میرے لیے ایک خواب جیسا تھا۔ اس دن میں نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا کہ تمہیں ہر دکھ سے بچاؤں گا، ہر ضرورت پوری کروں گااور جب تک میری سانسیں چلیں گی،تمہاری راہ میں آنے والی ہر مشکل کو اپنی ہتھیلی پر روک لوں گا۔
وقت گزرتا گیا، میری جوانی تمہاری پرورش میں گزرگئی۔ صبح نکلتا تھا توتمہاری مسکراہٹ کا خیال مجھے تھکن محسوس نہیں ہونے دیتا تھا۔ رات کو لوٹتا تو تمہاری نیند میں سکون ڈھونڈتا۔ تمہاری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے میں نے اپنی خواہشوں کو دفن کر دیا، تمہیں نیا جوتا دلاتے ہوئے کبھی اپنی پرانے جوتے کی طرف نہیں دیکھا، تمہارے بہتر مستقبل کے لیے اپنی ہر خوشی قربان کردی۔
اور آج…؟
آج جب میں بوڑھا ہو چکا ہوں،جب میری ٹانگوں میں وہ طاقت نہیں رہی جو تمہیں کندھےپراٹھا کر بازار لےجاتی تھی،جب میری آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ رہی ہے، جب میری آواز وہ گرج نہیں رکھتی جو کبھی تمہیں شرارتوں سے روکتی تھی۔ ایک کونے میں بیٹھا ہوں، خاموش، بےوقعت، جیسے میرا ہونا نہ ہونا برابر ہو۔
مجھے معلوم تھا کہ ایک دن ذمہ داریاں تمہیں منتقل کرنی ہوں گی مگر میں نےیہ نہیں سوچا تھا کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد اپنی حیثیت و اہمیت بے وقعت ہوتی لگتی ہے ۔آج جب مجھے کسی ضرورت کے لیے تمہاری طرف دیکھنا ہوتا ہے تو تم جانتے ہو میرے دل پر کیا گزرتی ہے ؟ میں چاہ کر بھی نہیں بیان کرسکتا ،وہ دکھ وہ اذیت ۔
میرا جی چاہتا ہے تم بغیر کہے سب سمجھو ،جب سب کچھ میرا تھا(اور ہے تو آج بھی میرا لیکن یہ احساس چھین لیا ) تم آکر مجھ سے اپنی ضرورت کہتے تھے ۔میرا مان کتنا بڑھ جائے جب تم آج بھی آکر مجھ سے اپنی ضرورت کہو ۔بجائے اس کے کہ میں اپنی ضرورت کے لیے تمہاری طرف دیکھوں ۔مجھے کتنا اچھا لگتا تھا تم مجھ سے فرمائشیں کرتے ،چاہے میں پوری کرسکتا یا نہیں لیکن سننا بھی اچھا لگتا ۔اپنے ہونے کا احساس ہوتا ،اپنی اہمیت معلوم ہوتی۔آج جب خود کچھ کہنا چاہتا ہوں تو جھجھک آڑے آجاتی ہے۔مجھے ایسا لگتا ہے میں ہاتھ پھیلا رہا ہوں وہ ہاتھ جو تمہیں زندگی بھر دیتا رہا ہے۔ مجھے جانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ جب تک میں دیتا رہا میں محترم تھا اور آج میرا وہ مقام نہیں رہا۔مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا جب سب مجھے ہدایات دے رہے ہوں یہ رتبہ تو اللہ نے مجھے دیا ہےتمہیں نہیں۔
مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے جب مجھے اپنے فیصلوں سے صرف آگاہ کیا جاتا ہےپوچھا نہیں جاتا۔میرا جی چاہتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ سے مشورہ کیا جائے ، اجازت لی جائے پوچھا جائے مجھے بتایا نہیں جائے۔ تم بے شک جوان ہوگئے ہو لیکن میں تم میں وہی بچہ دیکھتا ہوں جو ہر بار میرے پاس آتا تھاکوئی نہ کوئی چیز صحیح کروانے ،کسی نہ کسی کام کا کہنے ،پوچھنے درخواست کرنے۔میرے تجربے میری زندگی کے نچوڑ سے فائدہ نہ اٹھاؤ تو یہ تمہاری بد نصیبی ہوگی ۔میں تمہیں بہت کچھ سمجھانا چاہتا ہوں، بتانا چاہتا ہوں لیکن تم یہ کہہ دیتے ہو یہ وہ دور نہیں۔ بچو! کیسے سمجھاؤں وقت تو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے لیکن باپ نہیں بدلتا ہمیشہ یاد رکھنا ۔ برگد کا درخت جتنا پرانا ہو، اس کا سایہ اتنا ہی گھنا ہوتا بس باپ بھی بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا۔۔





































