
نگہت فرمان
مقابلہ مضمون نویسی میں سوم پوزیشن حاصل کرنے والا مضمون
"فلم اور ڈراما کیا واقعی کسی سماج میں کوئی مثبت یا منفی تبدیلی کا محرک ہوسکتا ہے ؟"
یہ سوال ہمارے ہی نہیں دنیا بھر کے دانش وروں اور عوام الناس کا حساس موضوع رہا ہے اور ہمارے سماج میں بھی عرصہ دراز سے یہی بحث چلی آ رہی ہے کہ فلم اور ڈراموں کا معاشرے پر کیا اثر ہوتا ہے‘ بالخصوص پاکستانی معاشرے پر جو اپنی ایک الگ سماجی ساخت رکھتا ہے اور اسے اسلامی اقدار میں ڈھالنے کا دعوے دار ہے۔ ڈرامے کی بات کی جائے تو اسٹیج ہو یا کسی چینلز کے لیے فلمایا جانے والا ڈراما زندگی کے حقائق کو کرداروں اور مکالموں کے ذریعہ پیش کیے جانے کا نام ہے۔ اس میں صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل بھی ہمارے اذہان پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ انسان کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ پاکستان میں ایک دور تھا جب ان ڈراموں نے معاشرے میں تہذیب و تمدن کی آب یاری و ذہنی تربیت کے لیے اپنی ایک تاریخ رقم کی خاص طور پر تاریخی شخصیات کی زندگی پر مبنی ڈراموں نے۔
یہ دور پاکستان کی ثقافتی تاریخ میں کلیدی مقام رکھتاہےجس میں ڈراموں کے کردار واقعی معاشرے سےآتےتھےاورلوگ اپنےمسائل اوران کاسنجیدہ ومثبت حل ان ڈراموں سے نکالتے تھے۔ محدود وسائل کے ساتھ خوب صورت عکس بندی، شائستہ زبان، پُرمغز مکالمے ان ڈراموں کا خاصا تھے جنہوں نے دیکھنے والوں کے افکار اور زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔
ان ڈراموں کے تخلیق کاروں میں حسینہ معین، شوکت صدیقی، انورمقصود، فاطمہ ثریا بجیا، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، نسیم حجازی، امجد اسلام امجد اور دیگر سماجی مسائل کے نبض شناس ادیب تھے جنہوں نے شاہ کار ادب تخلیق کیا اور سماج میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان کے لکھے گئے ڈراموں کو احسن و باوقار انداز سے پیش کیا گیا جس نے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب کیے اور طویل عرصہ تک ان ڈراموں کی گونج سنائی دیتی رہی جن میں باادب باملاحظہ، شاہین، تعلیم بالغاں، اندھیرا اجالا، افشاں، جانگلوس، تنہائیاں، آنگن ٹیڑھا، دھوپ کنارے، ان کہی، آنچ، عروسہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان ڈراموں کو آج بھی سنجیدہ لوگ یاد کرتے ہیں اور اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب ڈراما اور معاشرہ دونوں صاحبِ کردار ہوا کرتے تھے پھر یک دم نہیں آہستہ آہستہ ٹی وی ڈرامے تنزلی کا شکار ہوئے اور ڈرامے سستی تفریح کے نام پر فحاشی پھیلانے کا ذریعہ بن گئے۔ عوام کا ذوق بھی یک دم نہیں بدلا ابتداءاشتہارات سے کی گئی اس میں آزادی، بے فکری، اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا سبق دیا گیا پھر ڈرامے ایسے بننا شروع ہوئے جس نے ثقافت و روایات اور خاندان کی دھجیاں بکھیرنے کا کام کیا۔ پہلے ڈراموں میں رشتوں کا احترام، قربانی، ایثار، اعتماد اور محبت دکھایا جاتا تھا اب ڈراموں میں ایک دوسرے کی تذلیل، بے اعتمادی، رشتوں کی پامالی ہیں، جسے دل چاہے تھپڑ رسید کردو، جس سےدل چاہے افیئر چلاﺅ، ناجائز تعلقات کو گلیمرائز کیا جانے لگا۔ یہ سب دکھا کر معاشرے کو مزید پستی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ جب بھی یہ سوال اٹھتاہے کہ ایسےڈارمے کیوں دکھائے جا رہے ہیں؟ تو جواب آتا ہے کہ ”سماج میں یہی سب تو ہو رہا ہے۔“ اس پر غالباً اشفاق احمد مرحوم ہی تھے‘ اُن کی بات یاد آجاتی ہے جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی ہے تو کیا اس دکھانا نہیں چاہیے؟ تو ان کا جواب تھا بالکل بھی نہیں کہ یہ اس برائی کو عام کرنے کا ذریعہ بنے گا اور ہمارے ہاں آج ڈراموں میں چہرے بدل کر‘ تھوڑا لفظی ہیر پھیر کرکے وہی کہانیاں‘ وہی بے ہودہ مناظر دکھا کر گھر گھر برائی عام کردی گئی ہے۔ ان کے بھیانک اثرات یہ ہوئے ہیں کہ بیوی شوہر پر بھروسا کر رہی نا شوہر بیوی پر، ساس بہوئیں، نند، بھاوج، دیورانی، جیٹھانی ہر رشتے کی تو حرمت ختم کردی گئی۔ کبھی ساس کو اتنا ظالم اور بہو کو اتنا مظلوم دکھایا جاتا ہے کہ ہر دیکھنے والی بہو کو لگتا ہے کہ میں بھی اتنی مظلوم ہوں، کبھی ساس کو اس قدر مظلوم کہ ہر ساس کو گمان گزرتا ہے میری بہو بھی ایسی ہی ہے اور کم و بیش یہی سلوک ہر رشتے و تعلق کے ساتھ کیا جارہا ہے جس نے خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ انسان بالخصوص عورت کی نفسیات ہے کہ اس پر بہت جلد اثر ہوتا ہے اور وہ مظلوم کرداروں میں خود کو اس جگہ محسوس کرتی ہے۔ اسی طرح ہر رشتے میں حسد دکھا کر سب کو ایک دوسرے سے خوف زدہ کردیا گیا ہے، کامیاب ہونے والا کھل کر جشن بھی نہیں مناتا اس خوف سے کہ لوگ حسد کریں گے۔ جب کہ دیکھا یہ گیا ہے کہ بیشتر اس بات پر افسردہ ہوتے ہیں کہ انھیں اپنی خوشی میں شریک نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے سماجی دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشیاں بانٹنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ نمود و نمائش سے منع کیا گیا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ کسی کو محرومی کا احساس نہ ہو۔
پُرتعیش زندگی دکھا کر لوگوں کو اسی کے حصول میں لگادیا گیا ہے۔ ہرفردآج اسی میں لگا ہوا ہے کہ کسی بھی طرح پیسےکما لیےجائیں،چاہے کسی کا حق مار کر اور چاہے کسی کو پھنسا کر۔ پہلے ڈراموں میں ہی حلال حرام ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا یہ سب سکھایا جاتا تھا۔ اب ہر دوسرے ڈرامہ میں گھر یا آفس کی ملازمہ کو اپنے باس و گھر کے سربراہ کو ناجائز طریقہ سے اپنے جال میں پھنسا کر گھر توڑتے دکھایا جانے لگا جس سے ایک طرف تو مڈل کلاس لڑکیوں کی غلط نمائندگی کی جارہی کہ ہر نوکری کرنے والی لڑکی کو لوگ غلط نگاہ سے دیکھیں یا اس کے کردار پر شک کریں تو دوسری جانب دوسری شادی کو گناہ سمجھا جارہا ہے۔ اس طرح کے ڈرامے تسلسل سے دکھا کر معاشرے میں سدھار نہیں بگاڑ ہی آسکتا ہے۔
پھرتفریح کے نام پر فحش گوئی، لغو باتیں کرکر کے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے۔ پہلےمزاح میں بھی شائستگی تھی، تربیت تھی، اب پھکڑپن اور بدزبانی کو مزاح کا نام دے دیا گیا۔ حسرت موہانی یاد آئے:
خرد کا نام جنوں پڑگیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کہے
ڈراما پیش کرنے والےہی نہیں دیکھنے والوں پر بھی حیرت ہے کہ وہ کیسےدیکھ لیتےہیں؟ زبان وگفتگو کا حسن کیا ہوتا ہے،ادبیت کسے کہتے ہیں، گزشتہ ادوار کا موازنہ کریں تو پتا چلتا ہے۔ لیکن اب دیکھنے والے ان جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتے، انہوں نے رائج زبان قبول کرلی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ طبقہ جسے ہم باشعور طبقہ گردانتے تھے وہ بھی نہ چاہتے ہوئے اس بھیڑ چال میں شامل ہوگیا ہے۔ ڈراموں کے معاشرے پر اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریٹنگ پر آنے والے ڈراموں کو اتنا موضوع گفتگو بنایا جاتا ہے اتنی میمز بنتیں اور پوسٹس شیئر ہوتی ہیں کہ ایسا گمان ہوتا ہے کہ زندگی کا سب سے اہم کام یہی ہے اور ان سب میں وہ افراد بھی شراکت دار ہوتے ہیں جو کسی بھی سطح و مقام پر افراد کی تربیت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جب یہ سنجیدہ طبقہ اس میں شریک ہوگا تو دیگر افراد کو اس کے اثرات سے بچانا کیسے ممکن ہے ؟
افسوس! جو ڈراما اور فلم بڑے موثر طریقے سے ملک سے جہالت کا خاتمہ کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے،وہی جہالت پھیلانے کا موجب بن رہا ہے اور ہمیں اس کا ادراک بھی نہیں۔ ڈراموں کے ذریعہ اصلاح ممکن ہے لیکن ایسے نہیں جن میں مستقل گھریلو جھگڑے، ناچاقیاں و بدگمانیاں دکھائی جائیں بلکہ ایسے جن میں رشتوں کا احترام، سادگی، ہم دردی، ایثار و قربانی، انسانی اقدار، محبت اور زندگی میں درپیش مسائل کا حل، بزرگوں کی اہمیت کے سب اسباق موجود ہوں۔
اگر ہمیں اس اخلاق باختگی کو ڈراما یا فلم کہنا ہے تو اپنےاقدارسےدست بردارہوجانا چاہیےاوراگرہمیں اپنی میراث تہذیب وتمدن کو محفوظ رکھنا ہے تو ایسے ڈراموں اور فلموں کا ناصرف بائیکاٹ کرنا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ ایسے ڈراموں کے تخلیق کاروں اور اسے نشر کرنے والے چینلز کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا۔ نیز اس کے بالمقابل ایسے ڈرامے و پروگرامات بنانے ہوں گے جن سے معاشرے میں اصلاح ممکن ہو اور فرد کی مثبت تربیت و ذہن سازی ہوسکے۔





































